صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 260
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۶۰ ۷۷۔کتاب اللباس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَ بن عازب سے روایت کی۔حضرت براڑ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لال ریشمی زین پوشوں اور قسی کے کپڑوں سے منع فرمایا۔عَنِ الْقَسِيِّ۔أطرافه: ۱۲۳۹، ٢٤٤٥، ٥١٧٥، ٥٦٣٥ ٥٦٥٠، ٥٨٤٩، ٥٨٦٣، ٦٢٢٢، ٦٢٣٥، ٦٦٥٤۔یخ لُبُسُ الْقَتِي : قمی (ریشم) پہنا۔علامہ عینی نے کہا ہے ”قس سمندر کے ساحل پر ایک شہر تھا اس شہر میں ریشم کے کپڑے بنے جاتے تھے اب وہ شہر ویران ہو چکا ہے۔ابو عبید نے کہا محد ثین اسے ”ق“ کی کسرہ سے قشی اور اہل مصر ”ق“ کی فتح سے کشی کہتے ہیں۔علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ یہ لفظ الفری ہے سین کی جگہ ”زا“ ہے اور ”قز " موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔شرح التوضیح میں ذکر ہے قس" نہیں کی ایک بستی تھی جو بحر دمیاط کے ساحل پر ایک جزیرے میں واقع تھی جواب ویران ہو چکی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحه ۱۵) وَالمِيرَةُ جُلُودُ السَّبَاعِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَامِمٌ أَكْثَرُ وَ أَصحُ فِي المِيرَةِ: اور میٹرہ درندوں کی کھالوں کی ہو تیں۔ابو عبد اللہ ( امام بخاری نے کہا: میٹرہ کے متعلق عاصم کی روایت زیادہ مشہور اور زیادہ صحیح ہے۔امام بخاری نے اس کی تفسیر کارڈ اس ٹکڑے میں کیا ہے۔كَانَتِ النِّسَاءُ تَصْنَعُهُ لِبُعُولَعِينَ مِثْلَ الْقَطَائِفِ عورتیں اپنے خاوندوں کیلئے عملی چادروں کی طرح انہیں بناتی تھیں۔ابو عبید نے کہا ہے کہ عجمیوں کی سواریوں پر دیباج یا ریشم کے کپڑے کو زمین کے اوپر بچھایا جاتا تھا یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریشم کے کپڑے سے یا اونی کپڑے سے زین کو ڈھانپا جاتا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے یہ چھوٹے بستر (گرے) کی طرح ہوتا تھا جو ریشم سے بنایا جاتا تھا اور اس میں سوت بھی استعمال کیا جاتا تھا اور سوار اس کپڑے کو پالان کے اوپر بچھاتا تھا۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۵) بَاب ۲۹ : مَا يُرَخَّصُ لِلرِّجَالِ مِنَ الْحَرِيرِ لِلْحِكَّةِ خارش کی وجہ سے مردوں کو ریشم پہننے کی اجازت کے بارہ میں ٥٨٣٩ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ :۵۸۳۹ : محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وسیع نے ہمیں خبر دی۔شعبہ نے ہمیں بتایا۔شعبہ وکیچ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے قادہ سے ، قتادہ نے حضرت انس سے روایت وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي لُبْس کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر الْحَرِيرِ لِحِكَةٍ بِهِمَا۔اور عبد الرحمن کو ریشم پہنے کی اجازت دی کیونکہ ان دونوں کو خارش کی بیماری تھی۔أطرافه : ۲۹۱۹، ۲۹۲۰، ۲۹۲۱، ۲۹۲۲