صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 259
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۵۹ بَاب ۲۸: لُبْسُ الْقَسِي قی (ریشم) پہننا ۷۷۔کتاب اللباس وَقَالَ عَاصِمٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ اور عاصم (بن کلیب) نے ابوبردہ سے نقل کیا۔قُلْتُ لِعَلِي مَا الْقَسِيَّةُ قَالَ ثِيَابٌ انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی سے پوچھا: أَتَتْنَا مِنَ الشَّامِ أَوْ مِنْ مِصْرَ مُضَلَّعَةٌ فی کیسا کپڑا ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ وہ فِيهَا حَرِيرٌ وَفِيهَا أَمْثَالُ الْأَمْرُنْج کپڑے تھے جو ہمارے پاس شام سے یا مصر سے وَالْمِيثَرَةُ كَانَتِ النِّسَاءُ تَصْنَعُهُ آئے اس میں ریشمی دھاریاں تھیں اور ترنج کی لِبُعُولَتِهِنَّ مِثْلَ الْقَطَائِفِ يَصُفُوْنَهَا طرح اس میں بیل بوٹے بنے ہوئے تھے اور میٹرہ یعنی زین پوش، عورتیں اپنے خاوندوں کے وَقَالَ جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ فِي حَدِيثِهِ لئے بنایا کرتی تھیں جو مخملی چادروں کی طرح ہوتیں الْقَسَيَّةُ ثِيَابٌ مُضَلَّعَةً يُجَاءُ بِهَا مِنْ جن کو وہ زردی سے رنگا کرتی تھیں۔اور جریر مِصْرَ فِيهَا الْحَرِيرُ وَالْمِيثَرَةُ جُلُودُ بن عبد الحمید) نے یزید سے اپنی حدیث میں السباع۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَاصِمٌ یوں نقل کیا کہ قسی، دھاری دار کپڑے تھے جو مصر أَكْثَرُ وَأَصَحُ فِي الْمِيثَرَةِ۔سے لائے جاتے ان میں ریشم ہوتا۔اور میشرہ درندوں کی کھالوں کی ہوتیں۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: میشرہ کے متعلق عاصم کی روایت زیادہ مشہور اور زیادہ صحیح ہے۔٥٨٣٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل :۵۸۳۸: محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔سفیان أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ حَدَّثَنَا (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اشعث بن مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ ابْنِ الى شعثاء سے روایت کی کہ معاویہ بن سوید بن عَازِبٍ قَالَ نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى الله مقرن نے ہمیں بتایا۔معاویہ نے حضرت (براء) 1 عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ يُصَفِّرُنہا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔