صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 256
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۵۶ ۷۷۔کتاب اللباس فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَفْصٍ يَعْنِي عُمَرَ پوچھا۔وہ کہنے لگے: حضرت ابن عمر سے پوچھو۔بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى عمران کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عمرؓ سے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ پوچھا۔انہوں نے کہا: مجھے ابو حفص یعنی حضرت عمر الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ بن خطاب نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الْآخِرَةِ فَقُلْتُ صَدَقَ وَمَا كَذَبَ نے فرمایا: دنیا میں ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس أَبُو حَفْصٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔(عمران کہتے تھے :) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ میں نے ( یہ حدیث سن کر کہا: ابو حفص نے سچ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنِي کہا۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں کہا۔اور عبد اللہ بن رجاء نے کہا: ہمیں حرب نے بتایا۔انہوں نے یحی بن ابی کثیر) سے روایت کی۔(انہوں نے کہا: ) عمران ( بن حطان) نے مجھ عِمْرَانُ۔۔وَقَصَّ الْحَدِيثَ۔أطرافه ٥۸۲۸ ٥٨٢٩، ٥٨٣٠، ٥٨٣٤- ر سے بیان کیا اور پھر انہوں نے بھی ساری حدیث نقل کی۔ريح : لُبْسُ الْحَرِيرِ وَافْتِرَاشُهُ لِلرِّجَالِ وَقَدْرِ مَا يَجُوزُ مِنْهُ: ریشی کپڑے پہنا اور مردوں کے لئے اسے بچھانا اور جس قدر ریشم پہننا ( مردوں کے لئے ) جائز ہے۔زیر باب تین روایات نمبر ۵۸۲۸ تا ۵۸۳۰ میں حضرت عمر کے اس خط کا ذکر ہے جو انہوں نے حضرت عقبہ بن فرقد کو لکھا جس میں ریشم کی حرمت کا ذکر ہے حضرت عقبہ بن فرقد حضرت عمر کی طرف سے عراق کی بعض مہمات میں سپہ سالار تھے اور ایک روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت عقبہ نے دو غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی۔روایت نمبر ۵۸۲۹ میں ذکر ہے کہ ہم آذربائیجان میں تھے۔علامہ کرمانی نے کہا ہے یہ ماورائے عراق ہے۔علامہ عینی کہتے ہیں یہ درست نہیں بلکہ عراق اس کے جنوب میں ہے اور اس کے شمال میں عقیق کے پہاڑ ہیں اور اس کے مغرب میں بلاد روم کی حدود ہیں اور کچھ علاقہ الجزیرہ کا ہے۔اور اس کے مشرق میں ”الحیل“ کے پہاڑ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحه ۹) روایت نمبر ۵۸۲۸ کی سند میں ابو عثمان النہدی کا ذکر ہے۔یہ ابو عثمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلمان ہو گئے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو ملاقات نصیب نہیں ہوئی، اس لیے یہ صحابی نہیں کہلاتے۔انہوں نے حضرت عمر، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت ابن عباس، حضرت