صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 252
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۵۲ ۷۷۔کتاب اللباس الْبَسُوا الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَظْهَرُ وَأَطيبُ وَكَفَرُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ - ترندی نے یہ روایت صحیح قرار دی ہے۔لے یعنی سفید کپڑے پہنو، یہ زیادہ پاک اور طبیب ہیں اور ان میں ہی اپنے مردوں کو کفن دو۔ابن حبان اور حاکم نے اسے حدیث صحیح قرار دیا ہے (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۷) بَاب ٢٥ : لُبْسُ الْحَرِيْرِ { وَافْتِرَاشُهُ لِلرِّجَالِ وَقَدْرِ مَا يَجُوزُ مِنْهُ مردوں کا ریشمی کپڑے پہنا اور ان کے لئے اسے بچانا اور کس قدر ریشم پہننا (مردوں کے لئے) جائز ہے ٥٨٢٨ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۵۸۲۸ آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا النَّهْدِيَّ قَالَ أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ قتادہ نے کہا: میں نے ابو عثمان نہدی سے سنا۔مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدِ بِأَذْرَبيجَانَ أَنَّ انہوں نے کہا: ہمارے پاس حضرت عمر" کا خط آیا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور ہم اس وقت حضرت عقبہ بن فرقد کے ساتھ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا وَأَشَارَ آذربائیجان میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ قَالَ نے ریشمی کپڑا پہنے سے منع فرمایا مگر اتنا اور آپ فِيمَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ۔نے دونوں انگلیوں سے جو انگوٹھے کے قریب ہیں اشارہ فرمایا۔ابو عثمان نہدی نے کہا: جہاں تک نَهَى عن ہمیں علم ہوا ہے آپ کی اس سے مراد بیل بوٹے حاشیہ وغیرہ ہے۔أطرافه: ۵۸۲۹، ٥٨۳۰، ٥٨٣٤، ٥٨٣٥۔٥٨٢٩ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۵۸۲۹: احمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔زہیر (بن حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي (معاویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عاصم نے ہمیں عُثْمَانَ قَالَ كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بتایا۔انہوں نے ابو عثمان سے روایت کی، انہوں (سنن ترمذی ابواب الادب، باب ما جاء فى لبس البياض) یہ لفظ عمدۃ القاری کے مطابق متن میں ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔