صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 251 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 251

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۵۱ ۷۷- کتاب اللباس عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ثُمَّ مَاتَ تھے اور اس وقت آپ سو رہے تھے۔ پھر میں عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ آپ کے پاس آیا اور آپ بیدار ہو گئے تھے۔ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى آپؐ نے فرمایا: کوئی بھی ایسا بندہ نہیں جو لا إِلَهَ إِلَّا وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ الله کا اقرار کرے۔ پھر اسی اقرار پر مر جائے تو قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا، گو زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ اس نے زنا کیا ہو ؟ گو اس نے چوری کی ہو؟ آپ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍ وَكَانَ نے فرمایا: گو اس نے زنا کیا ہو، گو اس نے چوری أَبُو ذَرِّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا قَالَ وَإِنْ کی ہو۔ پھر میں نے کہا: گو اس نے زنا کیا ہو گو اس رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍ۔ نے چوری کی ہو۔ آپ نے فرمایا: گو اس نے زنا کیا ہو گو اس نے چوری کی ہو۔ میں نے کہا: گو اس نے زنا کیا ہو گو اس نے چوری کی ہو۔ آپ نے فرمایا: (ہاں) گو اس نے زنا کیا ہو اور گو اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کے برا منانے کے باوجود۔ اور حضرت ابوذر جب یہ حدیث بیان کرتے تو کہا کرتے گو ابوذر کو برا معلوم ہو۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: یہ موت کے قَبْلَهُ إِذَا تَابَ وَنَدِمَ وَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا قریب یا اس سے پہلے جب وہ توبہ کرے اور پشیمان ہو اور لا إِلهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کرے تو اس کی بخشش کی جائے گی۔ اللهُ غُفِرَ لَهُ۔ أطرافه: ۱۲۳۷، ۱۴۰۸، ۲۳۸۸، ۳۲۲۲، ٦٢٦٨، ٦٤٤٣، ٦٤٤٤، ٧٤٨٧۔ تشریح : الثياب البيض: سفید کپڑے۔ امام بخاری نے زیر باب دوروایات سے سفید کپڑوں کے استعمال بلکہ ان کی فضیلت کا اشارہ کیا ہے۔ اوّل روایت نمبر ۵۸۲۶ میں غزوہ احد میں فرشتوں کو سفید لباس میں دیکھا گیا گو یا سفید لباس تو فرشتوں کا لباس ہے اور دوسری روایت نمبر ۷ ۵۸۲ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید لباس کا ذکر ہے۔ اصحاب السنن نے حضرت ابن عباس کی ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: