صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 249
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۴۹ ۷۷- كتاب اللباس فَإِنْ كَانَ ذَلِكِ لَمْ تَحِلِّي لَهُ أَوْ لَمْ اس نے جھوٹ کہا ہے۔ اللہ کی قسم یا رسول الله ! تَصْلُحِي لَهُ حَتَّى يَذُوقَ مِنْ میں تو اس کو چمڑے کی طرح ادھیڑ کر رکھ دیتا عُسَيْلَتِكِ قَالَ وَأَبْصَرَ مَعَهُ ابْنَيْنِ لَهُ ہوں مگر یہ نافرمان ہے۔ یہ رفاعہ کو پسند کرتی فَقَالَ بَنُوكَ هَؤُلَاءِ قَالَ نَعَمْ قَالَ هَذَا ہے۔ رسول اللہ صلی علیم نے یہ سن کر عورت سے الَّذِي تَزْعُمِينَ مَا تَزْعُمِينَ فَوَاللَّهِ لَهُمْ فرمایا: اگر ایسی بات ہے تو تم رفاعہ کے لئے حلال نہیں ہو سکتی یا اس کے پاس جانے کے لائق نہیں أَشْبَهُ بِهِ مِنَ الْغُرَابِ بِالْغُرَابِ۔ با الله جب تک کہ (عبد الرحمن) تجھ سے مزہ نہ اٹھائے۔ عکرمہ کہتے تھے اور آپ نے اس کے ساتھ دو بچے دیکھے۔ آپ نے عبد الرحمن سے پوچھا یہ تیرے بیٹے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے عورت سے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جس کے متعلق ایسا گمان کرتی ہے جو تو کرتی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ اس سے ایسے ہی ملتے جلتے ہیں جیسے ایک کوا دوسرے کوے سے۔ أطرافه: ٢٦٣٩ ، ٥٢٦٠، ٥٢٦١، ٥٢٦٥ ، ٥٣١٧، ٥٧٩٢، ٦٠٨٤۔ کی تشریح : الغياب الخضير : سبز رنگ کے کپڑے (پہنا)۔ زیر باب حدیث میں یہ ذکر ہے کہ رفاعہ مطلقہ اور عبد الرحمن بن زبیر کی بیوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خاوند کی شکایت کرنے آئی اس نے سبز رنگ کی اوڑھنی لی ہوئی تھی۔ حدیث تقریری کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے سبز کپڑے کے متعلق خاموشی اختیار کرنا اس کے جواز کی دلیل ہے۔ امام بخاری اپنی شرائط کے مطابق احادیث سے مسائل کا استنباط فرماتے ہیں۔ سبز کپڑوں کے متعلق واضح احادیث دیگر کتب نے نقل کی ہیں مگر امام بخاری نے انہیں اپنی شرائط کے مطابق قبول نہیں کیا۔ مثلاً سنن ابی داؤد میں حضرت ابور مثہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ اللہ صلی صلی اللہ اللہ علیہ علیہ وسلم و کی خدم خدمت میں حاضر ہوا آپ نے دو سبز چادریں زیب تن فرمائی ہوئی تھیں۔ 1۔ أَنَّ رِفَاعَةً طَلَّقَ امْرَأَتَهُ : رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ یہ رفاعہ بن شموال قرظی ہیں، یہ قبیلہ ا (سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب في الخضرة )