صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 247
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۴۷ ۷۷۔کتاب اللباس فَغَدَوْتُ بِهِ فَإِذَا هُوَ فِي حَائِط پاس صبح سویرے ہی لے جاؤ کہ تا آپ اسے گھٹی وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حُرَيْيَّةٌ وَهُوَ يَسِمُ دیں۔چنانچہ میں صبح کو اسے لے گیا کیا دیکھا کہ آپ الظُّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ ایک باغ میں ہیں اور آپ ایک حریثی اونی چادر پہنے ہوئے ہیں اور آپ اس (اونٹ کی) سواری کو اطرافه: ١٥٠٢، ٥٥٤٢- داغ رہے ہیں جو فتح مکہ کے زمانہ میں آپ کو ملی۔تشریح۔الخبيصةُ السَّوْدَاهُ : سیاه اونی نقش دار چادر۔زیر باب روایت نمبر ۳ ۵۸۲ میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ اونی کپڑے آئے ان میں ایک نقش دار سیاہ چھوٹی سی اونی چادر بھی تھی آپ نے فرمایا: اتم خالد کو لاؤ۔ان کو اٹھا کر لایا گیا۔وہ کم سن تھیں۔آپ نے وہ چادر اتم خالد کو پہنائی اور فرمایا اسے خوب پہنو اور اتنی کہ اسے بوسیدہ کر دو۔ام خالد کا نام امہ بنت خالد بن سعید بن العاص ہے۔علامہ ابن حجر نے بیان کیا ہے کہ اُن کے پیدا ہونے پر اُن کے والد نے ان کا نام امتہ اور اُن کی کنیت ام خالد رکھی تھی۔طبقات ابن سعد میں ذکر ہے کہ ام خالد حبشہ کی سرزمین میں پیدا ہوئی تھیں اور فتح خیبر کے بعد اپنے والد کے ساتھ نہ آئیں یہ اس وقت کمسن تھیں مگر سمجھدار تھیں۔ان کے والد حضرت خالد بن سعید بن العاص قدیمی صحابہ میں دید سے ہیں۔حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں اور ایک قول کے مطابق حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں وہ شام میں شہید ہوئے۔علامہ کرمانی کہتے ہیں: یہ چونکہ حبشہ میں پیدا ہو ئیں اور ایام طفولیت وہیں گزرے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار اور شفقت کے خاص انداز میں چادر کی خوبصورتی حبشہ کی زبان کے لفظ سناہ سے بیان فرمائی تاکہ یہ خوش ہوں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۵) ام خالد “آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کمسن بچی تھیں۔ان کی شادی حضرت زبیر سے ہوئی جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے، اہم خالد کے دو بیٹے تھے عمر اور خالد۔اس طرح ان کی کنیت ام خالد ان کے بیٹے خالد کے نام سے بھی ہم آہنگ ہو گئی۔ان کے والد کا نام بھی خالد تھا اور ایک بیٹے کا نام بھی خالد تھا۔فَغَدَوْتُ بِهِ فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حُرَيْنِيَّة: چنانچہ میں صبح کو اسے لے گیا کیا دیکھا کہ آپ ایک باغ میں ہیں اور آپ حریثی اونی چادر پہنے ہوئے ہیں۔حدیثیة حریث کی طرف نسبت ہے جو کہ بنو قضاعہ کا ایک آدمی تھا۔ابن سکن کی روایت میں اسے خیبر یہ کہا گیا ہے جو کہ معروف شہر خیبر کی طرف نسبت ہے۔علامہ کرمانی نے کہا ہے ایک روایت میں جو تکیہ ہے اس کا معنی ہے چھوٹی۔اور ایک روایت میں حوتیہ ہے جو کہ قبیلہ الحوت کی طرف نسبت ہے اور ایک روایت میں جو نیہ ہے جو کہ قبیلہ جون کی طرف نسبت ہے یا اس کے سفید اور سیاہ رنگ کی وجہ سے یہ نسبت دی گئی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۵)