صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 246
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۴۶ ۷۷- کتاب اللباس باب ۲۲ : الْخَمِيصَةُ السَّوْدَاءُ سیاه اونی نقش دار چادر ٥٨٢٣ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۵۸۲۳: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ سعید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سعید فُلَانٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بن فلاں سے جو کہ عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔ عَنْ أَمْ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ قَالَتْ أُتِيَ انہوں نے حضرت ام خالد بنت خالد سے روایت مة کچھ کپڑے کی۔ وہ کہتی تھی کہ نبی صلی اسلام کے پاس کچھ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ لائے گئے جن میں ایک چھوٹی سی سیاہ اونی نقش دار فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةً فَقَالَ چادر بھی تھی۔ آپؐ نے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے مَنْ تَرَوْنَ أَنْ نَكْسُوَ هَذِهِ فَسَكَتَ کہ ہم اس کو کسے پہنائیں؟ لوگ خاموش رہے۔ الْقَوْمُ قَالَ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِهَا آپؐ نے فرمایا: میرے پاس ام خالد کو لے آؤ۔ تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ اس کو اٹھا کر لائے۔ آپ نے وہ چادر اپنے ہاتھ فَأَلْبَسَهَا وَقَالَ أَبْلِي وَأَخْلِقِي وَكَانَ میں لی اور اس کو پہنا دی اور فرمایا کہ یہ دیر تک بار فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ فَقَالَ يَا بار پہنتی رہو اور اس میں سبز ار ہو اور اس میں سبز یا زر د نقش تھے۔ آپ أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَاهُ وَسَنَاهُ بِالْحَبَشِيَّةِ۔ نے حضرت اُم خالد سے فرمایا: یہ بہت اچھی ہے اور سناہ حبشی زبان کا لفظ ہے۔ أطرافه: ۳۰۷۱، ٣٨٧٤، ٥٨٤٥، ٥٩٩٣۔ ٥٨٢٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۵۸۲۴ : محمد بن مثنی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِي عَنِ ابْنِ نے کہا ابن ابی عدی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ (عبد الله بن عون سے، ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت انس رضی اللہ عنہ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب حضرت لِي يَا أَنَسُ انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا اتم سلیم کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو مجھ سے يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُو بِهِ إِلَى النَّبِيِّ کہنے لگیں: انس؟! اس بچے کا خیال رکھو۔ اسے کوئی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ کچھ کھلائے نہیں اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے