صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 245
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۴۵ ۷۷۔کتاب اللباس مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ کیا۔انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابوزناد سے، ابو زناد نے اعرج سے اعرج نے ، نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابوہریرہ ﷺ سے روایت کی انہوں نے وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ :کہا: رسول اللہ لی لی ایم نے دو طرح کے کپڑے پہنے فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ سے منع فرمایا ہے۔ایک یہ کہ آدمی ایک کپڑے میں مِنْهُ شَيْءٌ وَأَنْ يَشْتَمِلَ بِالنَّوْبِ اس طرح گوٹھ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى أَحَدٍ شِقَّيْهِ وَعَنِ ہو اور ایک یہ کہ ایک ہی کپڑے کو اس طرح لیٹے کہ اس کے ایک پہلو پر کچھ نہ ہو اور نیز آپ نے الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَدَةِ۔ملامسہ اور منابذہ سے (بھی منع فرمایا)۔أطرافه : ٣٦٨، 58٤، 588، 1993، ٢١٤٥، ٢١٤٦، ٥٨١٩۔٥٨٢٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنِي ۵۸۲۲ : محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا۔مَخْلَدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ انہوں نے کہا مخلد ( بن یزید ) نے مجھے بتایا کہ ابن أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ جریج نے ہمیں خبر دی۔ابن جریج نے کہا کہ مجھے بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ابن شہاب نے بتایا۔ابن شہاب نے عبید اللہ بن اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عبد اللہ سے، عبید اللہ نے حضرت ابو سعید خدری عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي قَوْبِ نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور نیز اس سے کہ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ کوئی آدمی ایک ہی کپڑے میں اس طرح گوٹھ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔رَضِيَ أطرافه: ۳٦٧ ،۱۹۹۱، ۲۱٤٤، ٢١٤۷، ٥٨٢٠، ٦٢٨٤ - ریح : الاحْتِبَاءُ فِي تَوْبِ وَاحِدٍ: ایک ہی کپڑے میں گوٹھ مارنا علامہ جوہری نے کہا ہے مرد کا احتباء یہ ہے کہ وہ اپنی پشت اور پنڈلیوں کو عمامہ کے ساتھ باندھ لے اور اس کی شرمگاہ پر کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو۔دوسرا قول یہ ہے کہ انسان اپنی سرین پر بیٹھ جائے اور اپنی دونوں پنڈلیوں کو کھڑا کر کے کسی کپڑے سے باندھ لے اور اس کی شرمگاہ پر کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۴)