صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 244 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 244

صحیح البخاری جلد ۱۴ سوم مهم ۳ ۷۷ - كتاب اللباس الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَدَةِ فِي الْبَيْعِ سے منع فرمایا یعنی آپ نے خرید و فروخت میں وَالْمُلَامَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور ملامسہ یہ ہے الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ وَلَا که آدمی دوسرے کے کپڑے کو اپنے ہاتھ سے يُقَلِّبُهُ إِلَّا بِذَاكَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِدَ چھولے رات کو یا دن کو اور اس کو الٹ پلٹ کر نہ دیکھے صرف اسی پر خریدے، اور منابذہ یہ ہے کہ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِدَ الْآخَرُ ایک آدمی دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے ثَوْبَهُ وَيَكُونَ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ اور دوسرا اپنا کپڑا پھینک دے اور اس طرح بغیر نَظَرٍ وَلَا تَرَاضِ وَاللَّبْسَتَانِ اشْتِمَالُ دیکھنے کے اور بغیر باہمی رضامندی سے ان کی الصَّمَّاءِ وَالصَّمَّاءُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ خرید و فروخت قرار پائے۔اور لباس کی دو قسمیں عَلَى أَحَدٍ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُو أَحَدُ شِقَّيْهِ جن سے آپ نے منع فرمایا ان میں سے ایک اشتمال لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ وَالرِّبْسَةُ الْأُخْرَى الصماء ہے اور صماء کے یہ معنی ہیں کہ آدمی اپنے احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهُوَ جَالِسٌ لَيْسَ کپڑے کو اپنے ایک کندھے پر ڈال لے اور اس کا عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ۔ایک پہلو کھلا رہے اس پر کپڑا نہ ہو اور دوسر الباس یہ ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے اپنے کپڑے سے اس طرح گوٹھ مارے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔أطرافه: ۳٦٧ ، ۱۹۹۱، ۲۱٤٤، ٢١٤۷، ٥٨٢٢، ٦٢٨٤- تشریح: اشتمَالُ الصَّنَاءِ: ایک ہی کپڑے کو اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ پاؤں باہر نہ نکل سکیں۔محدثین کے نزدیک کپڑے کو اس طرح لپیٹ لینے کو الصماء اس لیے کہتے ہیں کہ اس سے انسان اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے شگافوں اور سوراخوں کو بند کر دیتا ہے اور وہ ایسی چٹان کی طرح ہو جاتا ہے جن میں کوئی سراخ نہیں ہوتا اور فقہاء کے نزدیک استمالُ الصَّباء کا معنی یہ ہے کہ آدمی اس طرح کپڑا اپنے اوپر اوڑھے کہ اس کے علاوہ کوئی اور کپڑا اس کے جسم پر نہ ہو اور وہ جب ایک طرف سے کپڑا ہٹائے تو اس کا ستر کھل جائے (عمدۃ القاری جز ۲۲ صفحہ ۳) باب ۲۱ : الِاحْتِبَاءُ فِي قَوْبِ وَاحِدٍ ایک ہی کپڑے میں گوٹھ مارنا ٥٨٢١: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۵۸۲۱: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان