صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 242
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷ - كتاب اللباس حُذَيْفَةَ بْنِ غَانِمٍ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ پاس لے آؤ۔ابو جہم حذیفہ بن غانم کے بیٹے تھے جو بنو عدی بن کعب میں سے تھے۔أطرافه: ٣٧٣، ٧٥٢- :٥۸۱۸ حَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۵۸۱۸ مدد نے مجھے بتایا کہ اسماعیل (بن علیہ) إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا، بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ ایوب نے حمید بن ہلال سے، حمید نے ابو بردہ سے أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً وَإِزَارًا روایت کی۔اُنہوں نے کہا: حضرت عائشہ ہمارے غَلِيظًا فَقَالَتْ قُبِضَ رُوحُ النَّبِيِّ پاس ایک چادر اور ایک موٹا نہ بند نکال کر لائیں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ۔اور کہنے لگیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی آپ نے یہی دو (چادریں) پہنی ہوئی طرفه : ۳۱۰۸۔ریح تھیں۔الأَكْسِيَةُ وَالْخَمَائِصُ : عام چادریں اور اونی حاشیہ دار چادریں۔انسیة، کساء کی جمع ہے جو کہ چادر کیلئے عام اور معروف لفظ ہے۔اور خمائص خمیصہ کی جمع ہے۔خمیصہ اُونی چادر کو کہتے ہیں اور چو کور ریشمی چادر کو بھی کہتے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۲) جس میں بیل بوٹے بنے ہوتے ہیں۔حالات اور موسم کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف چادر میں استعمال فرمائیں۔اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلَاتِي وَأُتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ: اس چادر کو ابو جہر کے پاس لے جاؤ اور ابو جہم کی سادہ چادر مجھے لا دو۔حضرت ابو جہم معمر صحابہ میں سے تھے۔انہوں نے تعمیر کعبہ میں دو دفعہ حصہ لیا جب قریش نے تعمیر کعبہ کی اس وقت اور حضرت عبد اللہ بن زبیر نے جب تعمیر کعبہ کی اس وقت بھی۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۳) حضرت ابو جہم عامر بن حذیفہ نے نقش و نگار والی سیاہ اونی چادر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجی تھی۔آپ کو نماز میں اس چادر کی وجہ سے توجہ بٹنے کا احساس ہوا۔نماز کے بعد آپ نے فرمایا ابو جہم کی یہ نقش و نگار والی چادر اسے واپس دے دو اور اس سے عام سادہ چادر لے آؤ۔