صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 241
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۴۱ ۷۷- کتاب اللباس عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ نے کہا: مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر عَائِشَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ وی که حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس عَنْهُمْ قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللهِ رضی اللہ عنہم دونوں کہتے تھے کہ جب رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ صلى اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی شدت ہوئی تو آپ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ اپنی چادر کو اپنے چہرے پر ڈال لیتے اور جب كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ وَهُوَ گھبراہٹ محسوس کرتے تو اسے اپنے چہرے سے كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ بنا دیتے۔ آپ اسی حالت میں تھے کہ آپؐ نے وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ فرمایا: یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ جو انہوں مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا۔ نے کیا اس سے بچنے کیلئے آپ متنبہ فرماتے۔ أطراف الحديث ٥٨١٥: ۱۳۵، ۱۳۳۰ ، ۱۳۹۰، ٣٤٥٣، ٤٤٤١ ، ٤٤٤٣۔ أطراف الحديث ٤٣٦:٥٨١٦، ٣٤٥٤، ٤٤٤٤۔ ٥٨۱۷ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۸۱۷ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نے ہمیں بتایا ، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک اونی وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهُ لَهَا أَعْلَامٌ حاشیہ دار چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش تھے۔ فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا نَظْرَةً فَلَمَّا سَلَّمَ آپ نے اس کے نقوش کو ایک نظر دیکھا۔ جب قَالَ اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي آ نے سلام پھیرا تو فرمایا: میری یہ چادر ابو جہم جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آئِفًا عَنْ صَلَاتِي کے پاس لے جاؤ کیونکہ اس نے ابھی میری وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمِ بْنِ نماز سے توجہ ہٹائی اور ابو جہم کی ۔ اور ابو جہم کی سادہ چادر میرے ا أَنبِجانية: موٹی چادر کو کہتے ہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب اس چادر میں نقش و نگار ہوں تو خمیصہ کہلاتی ہے اور اگر بغیر نقش و نگار کے سادہ چادر ہو تو اسے أَنْبِجَانِيَّة کہتے ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۳)