صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 240 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 240

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۴۰ ۷۷- کتاب اللباس وَإِنَّهَا لَإِزارُهُ فَجَسَهَا رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اكْسُنِيهَا : آپ ہمارے پاس باہر آئے اور وہی چادر آپ کا نہ بند تھی۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے ہاتھ لگا کر دیکھا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! یہ مجھے پہننے کے لئے دیجئے۔ روایت نمبر ۵۸۱۰ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایثار اور قربانی کا ایسا واقعہ بیان ہوا ہے جس میں آپ کی اپنے صحابہ سے محبت اور شفقت کا نہایت لطیف نظارہ پیش کیا گیا ہے جو عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ کی عملی تصویر ہے، سویر ہے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے مقابلہ میں ایک ایسے پہاڑ کی حیثیت رکھتے تھے جس سے ٹکرا کر انسان کا سر پاش پاش ہو جاتا ہے مگر پہاڑ اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا وہاں اپنے ماننے والوں کے متعلق آپ کے دل میں اس قدر محبت اور پیار کے جذبات پائے جاتے تھے کہ احادیث میں لکھا ہے ایک دفعہ ایک مخلص عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خوبصورت چادر پیش کی جو اس نے اپنے ہاتھ سے بنی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ اسے اپنی ذات کے لئے استعمال فرمائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چادر پہن کر باہر تشریف لائے تو ایک شخص آگے بڑھا اور اُس نے کہا: يَا رَسُولَ اللہ ! یہ چادر مجھے دے دیجئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس چادر کی خود ضرورت تھی مگر آپ نے اُس کے سوال کو رڈ کرنا مناسب نہ سمجھا اور فورا واپس آکر اُسے چادر بھجوادی۔ لوگوں نے اسے ملامت کی کہ تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر کیوں مانگ لی؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس کی خود ضرورت تھی۔ اُس نے کہا میں نے یہ چادر اپنے کفن کے لئے لی ہے چنانچہ راوی کہتا ہے کہ بعد میں وہی چادر اُس کا کفن بنی۔ “ (سیر روحانی ، انوار العلوم جلد ۲۲ صفحہ ۵۹۱) باب ۱۹ : الْأَكْسِيَةُ وَالْخَمَائِصُ عام چادریں اور اُونی حاشیہ دار چادریں ٥٨١٥ - ٥٨١٦ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ۵۸۱۵ - ۵۸۱۶: یحی بن بکیر نے مجھ سے بیان بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ کیا کہ لیث بن سعد ) نے ہم ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب