صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 239
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۳۹ ۷۷- کتاب اللباس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَحَبُّ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ القِيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: کپڑوں میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی چادر پہننا بہت پسند وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةَ۔ طرفه: ٥٨١٢۔ تھی۔ ٥٨١٤ : حَدَّثَنِي أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۵۸۱۴ ابوالیمان نے مجھ سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے ، زہری نے سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ کہا مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف نے بتایا کہ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ في صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عنہا نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب وفات ہوئی تو ایک یمنی چادر آپ پر ڈال دی حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ۔ گئی۔ تشریح: الْبُرُودُ وَالْحِبَرُ وَالشَّمْلَةُ : چادریں، یمنی چادریں اور عام اوڑھنے والی چادریں۔ الْبُرُودُ بردہ کی جمع ہے یہ مربع صورت کی سیاہ رنگ کی چادر تھی۔ علامہ ابن بطال نے کہا ہے یہ یمن کی سوتی چادریں ہیں۔ زیر باب روایت میں بردہ نجرانی کا ذکر ہے اس میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ نجران بھی یمن کا ایک شہر ہے وہاں یہ چادریں دریں بنتی بنتی ہے تھیں اس لیے بردہ نجرانی یعنی نجرانی چادر کہا گیا ہے۔ انجیر یمنی منی چادر چادر کو کو کہتے ہیں۔ علامہ ہروی نے کہا ہے حبرہ وہ چادر ہے جس کے کنارے پر دھاریاں ہوں۔ الشَّمْلَةُ : جوہری کہتے ہیں یہ وہ چادر ہے جو بطور لحاف استعمال ہوتی تھی۔ علامہ داؤدی کہتے ہیں یہ بُردہ ہی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحہ ۳۱۱) زیر باب چھ روایات میں آنحضرت ص انحضرت صلی الله : اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور خلق عظیم کے شہ پارے بیان کیے گئے ہیں۔ روایت نمبر ۵۸۰۹ میں آپ کے تحمل، برداشت اور وسعت حوصلہ کا بیان ہے۔ ایک اُجڑ جاہل کی ظالمانہ حرکت پر آپ کا عفو و درگزر ترقی کرتے ہوئے جو دو سخا کے اس معراج کو پہنچتا دکھائی دیتا ہے جہاں انسانی شرف بشریت کی حد کمال کو پہنچتا ہے۔ روایت نمبر ۵۸۱۰ میں ایثار، قربانی اور اپنے خدام کی دل جوئی اور ذرہ نوازی کا نہایت لطیف پہلو پیش کیا گیا ہے اور صحابہ کا آپؐ کے متبرک کپڑوں کو اپنی مغفرت اور بلندی درجات کا ذریعہ سمجھنا آپ پر ان کے ایمان وایقان کا زندہ نشان ہے۔