صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 233 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 233

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۳۳ ۷۷۔کتاب اللباس ثُمَّ لَحِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھر نبی می کم اور حضرت ابو بکر پہاڑ کی ایک غار وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ میں جا پہنچے جسے ثور کہا جاتا تھا اور اس میں تین فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَبِيتُ راتیں ٹھہرے رہے۔حضرت عبد اللہ بن ابی بکر عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ان دونوں کے پاس جا کر رات رہتے اور وہ جوان، ہوشیار، ذہین و فہیم لڑکے تھے اور سحری کے وقت غُلَامٌ شَابٌ لَمِنْ ثَقِفٌ فَيَرْحَلُ مِنْ ہی ان کے پاس سے چلے آتے اور صبح کو مکہ میں عِنْدِهِمَا سَحَرًا فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ قریش کے ساتھ ہوتے جیسے کہ وہیں رات رہے بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ فَلَا يَسْمَعُ أَمْرًا ہیں تو وہ جو تدبیر بھی سنتے جو ان دونوں کے متعلق يُكَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ حَتَّى يَأْتِيَهُمَا کی جاتی تو وہ اس کو اچھی طرح یاد رکھتے اور جب بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلَامُ يَخْتَلِطُ الظَّلام اندھیرا چھا جاتاتو وہ آکر ان کو اس تدبیر کی اطلاع وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَی دیتے۔اور حضرت ابو بکڑ کے غلام عامر بن فہیرہ أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ مِنْ غَنَمٍ فَيُرِيحُهَا ان کے پاس اپنی بکریوں میں سے دودھ والی عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنَ بکری چراتے ہوئے لے جاتے جب عشاء سے الْعِشَاءِ فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلِهِمَا حَتَّى کچھ گھڑی گزر جاتی تو وہ اس کو ان کے پاس لے يَنْعِقَ بِهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ آتے اور وہ اس کا تازہ دودھ پی کر رات گزارتے يَفْعَلُ ذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْكَ پھرا بھی رات کا اند ھیرا ہی ہو تا کہ عامر بن فہیرہ ان کو ہش ہش کرتے ہوئے لے آتے۔وہ ان اللَّيَالِي الثَّلَاثِ۔تین راتوں میں ہر روز ایسا ہی کرتے تھے۔أطرافه : ٤٧٦ ٢١٣٨، ٢٢٦٣ ۲۲٦٤ ،۲۲۹۷، ۳۹۰۵، ٤٠۹۳ ٦٠٧٩ - تشریح۔التَّقَشُّعُ: سر پر کپڑا ڈال کر منہ کو ڈھانپنا۔دوپہر کے وقت کسی کے گھر جانا آنحضرت علی علی نام کا معمول نہیں تھا۔ہجرت کے نازک موقع پر آپ اپنی نقل و حرکت (movement) کو اخفاء میں رکھنا چاہتے تھے اور اپنی حکمت عملی کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔اس لیے بھی آپ اپنا سر منہ ڈھانک کر نکلے۔امام بخاری کتاب اللباس کی نسبت سے سر ڈھانکنے کی ضرورت اور جواز کے بیان کے ساتھ زیر باب دو تعلیقات لائے ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سر پر کپڑا لپیٹنے کا ذکر ہے۔پہلی تعلیق حضرت ابن عباس سے 1 عمدۃ القاری میں اس جگہ پتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحہ ۳۰۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔