صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 234
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۳۴ ۷۷۔کتاب اللباس مروی ہے کہ آپ گھر سے نکلے آپ نے سر پر سیاہ پٹی باندھی ہوئی تھی۔دسماء سیاہ کپڑے کے علاوہ اس پٹی کو بھی کہتے ہیں جو چکنائی لگنے کی وجہ سے سیاہ دکھائی دے۔دوسری تعلیق میں حضرت انسؓ کا قول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر چادر کا کنارہ باندھا تھا۔اس سے سر پر کپڑا باندھنے کی مختلف وجوہات کا بیان کرنا مقصود ہے کہ سردی، گرمی، بیماری یا کسی اور حکمت عملی کے ماتحت سر پر کپڑا باندھنا آپ سے ثابت ہے۔۔۔وَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسمى ذات النطاقين: اس لئے ان کو ذات النطاقین کہا جاتا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کا ارادہ کیا اُس وقت بھی آپ کی ہجرت میں ایک عورت نے خاص طور پر حصہ لیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مکہ سے روانگی کے وقت آخری کھانا حضرت عائشہ کی بڑی بہن اسماء نے بنایا اُس زمانے میں کپڑے بہت کم ہوتے تھے عورتوں کے پاس ایک ہی بڑی سی چادر ہوتی تھی جس کو وہ ساڑھی کی طرح اپنے ارد گرد لپیٹ لیتی تھیں بہت سے مردوں کو ایسی چادر بھی نہیں ملتی تھی وہ صرف تہہ بند ہی باندھتے تھے حضرت اسماء جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا باندھنے لگیں تو انہیں کوئی کپڑا نہ ملا انہوں نے اپنی ساڑھی سے ہی ایک ٹکڑا پھاڑ کر اس میں کھانا باندھا اور ساڑھی کے پھٹ جانے کی وجہ سے جہاں سے کپڑا پھاڑا تھا وہاں دو ٹکڑے ہو گئے وہ ایک ٹکڑے کو کمر کے گرد لپیٹ لیا کرتی تھیں اس وجہ سے ان کا نام ذَاتُ اتکائین پڑ گیا۔عام طور پر ایسی پھٹی ہوئی ساڑھی لونڈیاں باندھتی تھیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک موقع پر عبد اللہ بن زبیر کو کسی شخص نے کہا کہ وہ ذات النطاقین کے بیٹے ہیں یعنی ایک لونڈی کے۔ایک صحابی نے جب یہ سنا تو اُس نے کہا تمہیں یہ طعنہ دیتے ہوئے خیال نہیں آیا کہ اس کی ماں کو ذات النطاقین کیوں کہا جاتا تھا؟ جس لباس کے نام کی وجہ سے تم اسے لونڈی کا طعنہ دیتے ہو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ساڑھی کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا باندھا تھا۔پس یہ طعنہ نہیں یہ اس کی ماں کی فضیلت کی دلیل ہے۔“ ( فریضہ تبلیغ اور احمد کی خواتین، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحه ۳۹۹،۳۹۸)