صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 232 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 232

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۳۲ ۷۷- کتاب اللباس رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کہا کہ رسول اللہ صلی ال ایم اپنا سر منہ ڈھانکے مُقْبِلًا مُتَقَبِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ ہوئے اس وقت چلے آرہے ہیں کہ آپ اس يَأْتِينَا فِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدًا لَكَ وقت عموماً ہمارے پاس آیا نہیں کرتے تھے۔ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ حضرت ابو ابو بکر نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى قربان ہوں۔ اللہ کی قسم آپ اس وقت کسی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ ضروری کام کے لئے ہی آئے ہیں۔ نبی علی ایم آ پہنچے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ حضرت ابوبکر صا القرية فَدَخَلَ فَقَالَ حِينَ دَخَلَ لِأَبِي بَكْرٍ نے آپ کو اجازت دی۔ آپ اندر آئے۔ حضرت أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ قَالَ إِنَّمَا هُمْ ابو بکر سے فرمانے لگے: جو لوگ آپ کے پاس أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ہیں انہیں باہر بھیج دیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: یہ فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَالَ آپ ہی کے گھر والے ہیں یا رسول اللہ میرا باپ فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ آپ پر قربان۔ آپ نے فرمایا: مجھے تو یہاں قَالَ نَعَمْ قَالَ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا سے) نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ حضرت ابو بکر رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ نے کہا: یا رسول اللہ میرا باپ آپ پر قربان، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اکٹھے ہی جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت بِالثَّمَنِ قَالَتْ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَتْ ابو بکر نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا باپ آپ پر الْجِهَازِ وَضَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي قربان آپ میری ان دو سواریوں میں سے ایک لے لیں۔ نبی صلی الم نے فرمایا: قیمتا۔ حضرت جِرَابٍ فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي عائشہ بیان کرتی تھیں: ہم نے ان دونوں کے بَكْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا فَأَوْكَأَتْ بِهِ لیے سفر کا سامان جو جلدی سے جلدی تیار ہو سکتا الْجِرَابَ وَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ تھا تیار کر لیا۔ ہم نے ان کا زاد راہ ایک تھیلے میں النِّطَاقَيْنِ۔ رکھ دیا۔ اسماء بنت ابی بکر نے اپنے کمر بند سے ایک ٹکڑا پھاڑ کر اس سے تھیلے کو باندھ دیا۔ اسی لئے ان کو ذات النطاقین کہا جاتا تھا۔