صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 231
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس دَسْمَاءُ۔قَالَ أَنَس وَعَصَبَ النَّبِيُّ جس میں چکنائی لگی ہوئی تھی اور حضرت انس نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر چادر کا کنارہ لپیٹا ہوا تھا۔، ، حَاشِيَةَ بُرْد۔٥٨٠٧ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۵۸۰۷: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ ہشام بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا معمر سے ، معمر نے زہری سے، زہری نے عروہ قَالَتْ هَاجَرَ إِلَى الْحَبَشَةِ رِجَالٌ مِنَ سے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے الْمُسْلِمِينَ وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا روایت کی۔آپ فرماتی تھیں: حبشہ کی طرف کچھ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مسلمان ہجرت کر گئے تھے اور حضرت ابو بکڑ نے عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي بھی ہجرت کرنے کے لئے تیاری کی۔نبی صلی اللہ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَوَ تَرْجُوهُ بِأَبِي أَنْتَ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جاؤ کیونکہ میں بھی امید قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ رکھتا ہوں کہ مجھے اجازت مل جائے گی۔حضرت عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو بکڑ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان۔لِصُحْبَتِهِ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ کیا آپ بھی امید رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ۔ہاں۔اس لئے حضرت ابو بکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اپنے آپ کو روکے رکھا کہ آپ کے ساتھ ہی جائیں اور دو اونٹنیوں کو جو اُن کے پاس تھیں چار ماہ تک ببول کے پتے کھلاتے رہے۔قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَمَا نَحْنُ عروہ نے کہا: حضرت عائشہ فرماتی تھیں: ایک يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ دن ہم عین دو پہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے الظَّهِيرَةِ فَقَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ هَذَا ہوئے تھے تو ایک کہنے والے نے حضرت ابو بکر فتح الباری مطبوعہ بولاق میں وَقَالَ أَنَسٌ عَصب ہے (فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۳۳۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔