صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 230
صحیح البخاری جلد ۱۴ رض ۷۷- کتاب اللباس اللهُ میں پگڑی کے دو شملوں کا ذکر ہے۔ حضرت عمرو بن حریث بیان کرتے ؟ بیان کرتے ہیں کہ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى ا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْضَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَفَيْهِ ۔ یعنی وہ منظر ظر ۔ میرے سامنے ہے ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ہیں اور سیاہ عمامہ پہنے ہوئے ہیں اور آپؐ نے اس کے دونوں شملے کندھوں کے در میان لٹکائے ہوئے ہیں۔ طبرانی اور بیہقی نے حضرت انس سے روایت نقل کی ہے: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَحَبَّ الْأَلْوَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُضْرَةُ کے ہم بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سبز رنگ بہت پیارا لگتا تھا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے چوہدری غلام محمد صاحب بی اے نے بیان کیا کہ ”جب میں ۱۹۰۵ء میں قادیان آیا تو حضرت صاحب نے سبز پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر کچھ گراں گزرا کہ مسیح موعود کو رنگدار پگڑی سے کیا کام۔ پھر میں نے مقدمہ ابن خلدون میں پڑھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب سبز لباس میں ہوتے تھے تو آپ کو وحی زیادہ ہوتی تھی۔“ (سیرت المہدی جلد اول صفحہ ۹۹) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموما دس گز لمبی ہوتی تھی۔ پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے۔“ بَاب ١٦ : التَّقَنُّعُ سر پر کپڑا ڈال کر منہ کو ڈھانپنا (سیرت المہدی جلد اول صفحہ ۶۰) وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اور حضرت ابن عباس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ باہر آئے اور آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی المجعم الكبير للطبراني، باب الألف، باب ما جاء فى لبس العمائم والدعاء وغير ذلك ) ا (صحیح مسلم ، کتاب الحَقِّ ، بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ ) (شعب الايمان، الملابس والزى والاوانى وما يكره منها، فصل في الوان الثياب، جزء ۸ صفحه ۳۴۲) (المعجم الأوسط للطبراني، باب الميم ، من اسمه محمد، جزء ۶ صفحه (۳۹)