صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 229 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 229

صحیح البخاری جلد ۱۴ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ۲۲۹ ۷۷ - کتاب اللباس ”ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سر اویل بھی خرید نا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا نبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔علاوہ ازیں ٹوپی، گرتہ ، چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی۔جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۲۴۶) بَاب ١٥: الْعَمَائِمُ پگڑیاں (پہننا) ٥٨٠٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۸۰۶: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِئ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ نے کہا: میں نے زہری سے سنا۔زہری نے کہا: النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا مجھے سالم نے بتایا، سالم نے اپنے باپ سے، ان يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا ثَوْبًا کہ آپ نے فرمایا: محرم نہ قمیص پہنے اور نہ پگڑی مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ وَلَا الْخُفَّيْنِ اور نہ پاجامہ نہ ٹوپی والا کوٹ اور نہ ہی کوئی ایسا إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ کپڑا جسے زعفران یا درس لگی ہو اور نہ ہی موزے يَجِدْهُمَا فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ مگر جس کے پاس جو تیاں نہیں اس کو اجازت ہے کہ اگر وہ ان کو نہ پائے تو ٹخنوں سے نیچے تک ان الْكَعْبَيْنِ۔کو کاٹ لے۔أطرافه: ١٣٤، ٣٦٦، ١٥٤٢، ١٨٣٨، ١٨٤٢، ٥٧٩٤، ٥٨، ٥٨٠٥ ٥٨٤٧ ٥٨٥٢۔تشریح : الْعَمَائِمُ: پگڑیاں پہننا)۔امام طبرانی نے نجم الکبیر اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ایک مرفوع روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعْتَمُوا تَزْدَادُوا حِلْمًا وَالْعَمَائِمُ تيجانُ الْعَرَبِ کہ پگڑی پہنو تمہارے وقار میں اضافہ ہو گا اور پگڑیاں عربوں کی شان ہیں۔روایات (شعب الايمان الملابس والزي والاوانى وما يكره منها ، فصل فی العمائم، جزء ۸ صفحه ۲۹۴)