صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 228 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 228

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۲۸ ۷۷۔کتاب اللباس فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جسے نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ حُفَّيْنِ۔تہ بند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے اور جس کے پاس جو تیاں نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے۔أطرافه: ١٧٤٠ ، ١٨٤١، ١٨٤٣، ٥٨٥٣- ٥٨٠٥ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۵۸۰۵ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ جویریہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مَا نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ إِذَا أَحْرَمْنَا قَالَ لَا انہوں نے کہا کہ ایک شخص کھڑا ہوا، کہنے لگا: تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَالسَّرَاوِيلَ وَالْعَمَائِمَ يارسول اللہ جب ہم احرام باند ھیں تو آپ ہمیں وَالْبَرَائِسَ وَالْخِفَافَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ کیا پہنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: قمیص، ا رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَس پاجامے، پگڑیاں، ٹوپی والے کوٹ اور موزے نہ پہنو۔مگر یہ کہ کوئی ایسا شخص ہو جس کے پاس جو تیاں نہیں تو وہ موزے پہن لے جو ٹخنوں سے نیچے تک ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جسے الْحُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ القِيَابِ مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ۔زعفران یاورس لگی ہو۔أطرافه: ١٣٤، ٣٦٦، ١٥٤٢، ١٨٣٨، ١٨٤٢، ٥٧٩٤، ٥٨، ٥٨٠٦ ٥٨٤٧ ٥٨٥٢۔تشریح: السراويل: پا جائے۔سر اویل پا جانے کو کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عام رواج تہ بند کا تھا تا ہم آپ کا سر اویل خرید نا ثابت ہے۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۳۳۶) علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ آپ کے سر اویل خریدنے سے ظاہر ہے کہ آپ نے پہنے کیلئے خریدا ہو گا۔اس کی تائید طبرانی کی ایک روایت سے ہوتی ہے۔حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں: دَخَلْتُ يَوْمًا السُّوقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ إِلَى الْبَرَّازِينَ فَاشْتَرَى سَرَاوِيلَ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ۔قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّكَ لِتَلْبَسُ السَّرَاوِيلَ: قَالَ: نَعَمْ وَبِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَفِي السَّفَرِ وَالْحَصَرِ فَإِنِّي أُمِرْتُ بِالسّارِ فَلَمْ أَجِدُ شَيْئًا أَسْتَرَ مِنْهُ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن بازار گیا۔آپ کپڑا بیچنے والوں کے پاس بیٹھے اور چار درہم کے عوض ایک پاجامہ خریدا۔میں نے کہا: یارسول اللہ ! آپ پاجامہ پہنیں گے؟ فرمایا: ہاں رات کو بھی اور دن کو بھی، سفر میں بھی، حضر میں بھی، کیونکہ مجھے ستر پوشی کا حکم دیا گیا ہے اور میں اس سے زیادہ ستر پوشی والا لباس نہیں پاتا۔(المعجم الأوسط للطبراني، من اسمه محمد، جزء ۶ صفحه ۳۴۹، ۳۵۰، نمبر ۶۵۹۴)