صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 227
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۲۷ ۷۷- کتاب اللباس ٥٨٠٣ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۵۸۰۳: اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بیان کیا، کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ مالک نے نافع بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ ہے ، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ القِيَابِ قَالَ کی۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! محرم کیا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا فرمایا: تمھیں نہ پہنو اور نہ پگڑیاں اور نہ پاجامے السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا نہ ٹوپی والے کوٹ اور نہ ہی موزے مگر جس کے الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ پاس جو تیاں نہ ہوں تو وہ موزے ہی پہن لے اور فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ ان کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے اور نہ ہی کوئی مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ القِيَابِ ایسے کپڑے پہنے جن کو زعفران یا ورس لگا ہو ۔ شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا الْوَرْسُ۔ اور أطرافه: ١٣٤، ٣٦٦، ۱۵۴۲ ، ۱۸۳۸، ۱۸۴۲ ، ۵۷۹۴ ، ٥۸۰۰، ٥٨٠٦، ٥٨٤٧، ٥٨٥٢۔ فی ہو۔ جبہ ہو یا قمیص یا بارانی کوٹ وغیرہ۔ کان کے كَانَ لَهُ بُرْنُس يَتَبَرْنس ہیرے کہ آنحضرت کا ایک ٹوپی والا کوٹ تھا آپ اس کو زیب تن فرماتے۔ بعض تشریح الْبَرَانِسُ : ہر وہ کپڑا جس میں ٹوپی گئی ہو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کنٹوپ عیسائیوں کا لباس ہے اس لیے اس کا پہننا منع ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو کنٹوپ پہننے سے منع فرمایا ہے جس سے اشارة النص کے طور پر ثابت ہوتا ہے کہ غیر محرم کیلئے کنٹوپ کا پہننا منع نہیں ہے۔ بَاب ١٤ : السَّرَاوِيلُ پا جائے ٥٨٠٤ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۵۸۰۴ ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ دينار ) سے ، عمرو نے جابر بن زید سے، جابر نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا حضرت ابن عباس سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ ل الكافي للكليني، الفروع من الكافى، كتاب الزي والتجمل والمروءة ، باب القلانس، جزء ۶ صفحه ۶۶۰)