صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 226 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 226

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۲۶ ۷۷ - كتاب اللباس تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ عَنِ اللَّيْثِ کے لائق نہیں۔(قتیبہ کی طرح اس حدیث کو) وَقَالَ غَيْرُهُ فَرُوجٌ حَرِيْرٌ۔طرفه: ٣٧٥۔عبد اللہ بن یوسف نے بھی لیٹ سے روایت کیا اور ان کے سوا اور راویوں نے اس لفظ کو یوں نقل کیا: فَرُوجٌ حَرِيْرٌ - تشریح : الْقَبَاءُ وَفَزُوجُ حَرِير : قباء اور ریشمی فروج۔امام بخاری کے نزدیک فروج ایسی قباء ہے جس کے پیچھے چاک ہو۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: ابن فارس کے نزدیک چھوٹے بچے کی قمیص کو فروج کہتے ہیں۔قرطبی کہتے ہیں قباء اور فروج دونوں تنگ آستینوں والے لباس ہیں جن کے پیچھے وسط میں چاک ہوتا ہے۔جو سفر اور جنگ میں پہنی جاتی ہیں کیونکہ ان میں حرکت کرنا آسان ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۳۳۲) علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں کہ یہ ریشمی قباء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دومۃ الجندل کے رئیس اکیدر بن عبد الملک نے بطور ہد یہ بھجوائی تھی اور یہ واقعہ ریشم کی مناہی سے پہلے کا ہے۔علامہ نووی کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے یہی ریشم کی پہلی مناہی اور حرمت ہو جب آپ نے اس قباء کو اپنے اوپر سے اُتار کھینچا ہو۔نیز حضرت جابر کی حدیث میں بھی جو مسلم میں آئی ہے، کہا گیا ہے کہ آپ نے ایک ریشمی قباء میں نماز پڑھائی پھر اُسے کھینچ کر اتار دیا اور فرمایا مجھے جبریل نے اس سے منع فرما دیا ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۴ صفحہ ۹۸،۹۷) فَقَالَ رَضِيَ فَخَرَمَةُ : فرمایا کہ مخرمہ اب خوش ہو گیا ہے۔قال کا فاعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ داووی نے کہا ہے۔حافظ ابن حجر کہتے ہیں قال کا فاعل حضرت مخرمہ نہیں یعنی مخرمہ اپنا نام لے کر کہنے لگے کہ مخرمہ خوش ہو گیا۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۳۳۳) بَاب ۱۳ : الْبَرَانِسُ ٹوپی والے کوٹ ٥٨٠٢ : وَقَالَ لِى مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۸۰۲ : اور مسدد نے مجھ سے بیان کیا کہ معتمر نے مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ رَأَيْتُ ہمیں بتایا۔اُنہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے عَلَى أَنَسٍ بُرْنُسًا أَصْفَرَ مِنْ خَزْ۔سنا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس کو ایک زر درنگ کاٹوپی والا ریشمی کوٹ پہنے ہوئے دیکھا۔ا (صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب تحريم لبس الحرير وغير ذلك للرجال)