صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 220
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۲۰ ۷۷- کتاب اللباس فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمُ (التوبة : (۸۱) کرے اگر تو ان کے لئے ستر بار بھی استغفار کرے فَنَزَلَتْ وَلَا تُصَلِّ عَلَى اَحَدٍ مِنْهُم مَّاتَ اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ پھر یہ آیت ابَدًا وَلَا تَقُم عَلى قَبْرِهِ (التوبة: ٨٥) نازل ہوئی: ان میں سے کسی پر بھی جو مر جائے کبھی فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ۔ أطرافه: ١٢٦٩، ٤٦٧٠، ٤٦٧٢۔ جنازہ نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کبھی ( دعا کے لیے) کھڑے ہو۔ تب آپ نے ان کا جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔ تشریح: لبس القميص: قمیص پہنا۔ زیر باب آیت اذْهَبُوا قَمِيصِي هَذَا فَالْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَنِي يَأْتِ بَصِيرًا (يوسف: (۹۴) سے امام بخاری یہ بتانا چاہتے ہیں کہ قمیص کا استعمال جدید نہیں بلکہ پرانا چلا آرہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی قمیص پہننا پسند فرماتے تھے جیسا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ذکر ہے کہ مکان آحَبَّ القِيَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَبِيصُ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کو کپڑوں میں قمیص زیادہ پسند تھی۔ احادیث میں مذکر ا مذکور ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید رنگ کے کپڑے پسند تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ صاف بھی ہیں اور اچھے بھی، اور اپنے مردوں کو بھی اس میں کفن دیا کروں کے حضرت عبداللہ بن عباس رضیاللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول للہ صل اللہ علیہ وسلم چوٹی آستینوں اور کم لمبائی کی و قمیص پہنا کرتے تھے۔ کے حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آستین کلائی تک ہوا کرتی تھی۔ ہے بَاب : جَيْبُ الْقَمِيصِ مِنْ عِنْدِ الصَّدْرِ وَغَيْرِهِ سینے وغیرہ کے قریب قمیص میں گریبان رکھنا ٥٧٩٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۵۷۹۷ : عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ کہ ابو عامر نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن نافع نَافِعٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ ابراہیم نے حسن (بن مسلم) سے، له (سنن ترمذی، ابواب اللباس، باب ما جاء في القمص) (سنن ابو داود، کتاب اللباس، باب ما جاء في القميص) (سنن النسائی، کتاب الزينة، باب الأمر بلبس البيض من الثياب) (سنن ابن ماجه، کتاب اللباس، باب كم القميص كم يكون) (سنن الترمذي، أبواب اللباس، باب ما جاء في القمص)