صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 210
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۱۰ ۷۷ - كتاب اللباس ريح مَنْ جَرَّ إِذَارَهُ مِنْ غَيْرِ خُيَلاءُ: جس ے اپنے تہ بند کو بغیر کسی قسم کے تکبر کے گھسیٹا۔زیر باب دو روایات میں امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق ض کا نمونہ پیش کیا ہے اور ان دو مثالوں سے یہ واضح کیا ہے کہ کپڑے کا ٹخنوں سے نیچے ہونا فی ذاتہ کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ بسا اوقات یہ ادا اس شخصیت کی بے نفسی اور درویشی کی ایسی علامت بن جاتی ہے جو دنیا میں ہوتے ہوئے دنیا میں نہیں ہوتا اس کی تمام تر توجہات ذات باری تعالیٰ کی طرف ہوتی ہیں اور وہ ظاہری زیب و زینت سے بے نیاز اور تکلفات سے دور وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَفِينَ (ص: ۸۷) کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔پس کپڑے کا زمین پر لٹکنا یا نہ لٹکنا اپنی ذات میں کچھ معنی نہیں رکھتا بلکہ یہ انسان کی نیت ہی ہے جس پر اس کے تمام اعمال موقوف ہیں اور ہر عمل اپنی نیت کے مطابق ہی جزا پائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ وہ ان لوگوں میں شامل نہیں جو مورد عذاب ہیں کیونکہ اُن کی نیت میں تکبر کا دخل نہیں تھا اسی طرح خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسا کرنے میں بھی کسی قسم کے تکبر کا شائبہ تک نہ تھا جس پر آپ کی ساری زندگی شاہد ناطق ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اولیاء اللہ کی بھی ایسی ہی حالت ہوتی ہے کہ ان میں تکلفات نہیں ہوتے بلکہ وہ بہت ہی سادہ اور صاف دل لوگ ہوتے ہیں۔ان کے لباس اور دوسرے امور میں کسی قسم کی بناوٹ اور تصنع نہیں ہوتا مگر اس وقت اگر پیر زادوں اور مشائخوں کو دیکھا جاوے تو ان میں بڑے بڑے تکلفات پائے جاتے ہیں۔ان کا کوئی قول اور فعل ایسانہ پاؤ گے جو تکلف سے خالی ہو گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اُمت محمدیہ ہی میں سے نہیں ہیں۔ان کی کوئی اور ہی شریعت ہے۔ان کی پوشاک دیکھو تو اس میں خاص قسم کا تکلف ہو گا۔یہاں تک کہ لوگوں سے ملنے جلنے اور کلام میں بھی ایک تکلف ہوتا ہے۔ان کی خاموشی محض تکلف سے ہوتی ہے۔گویا ہر قسم کی تاثیرات کو وہ تکلف ہی سے وابستہ سمجھتے ہیں۔برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان ہے: وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَفِينَ (ص: ۸۷)۔“ لمفوظات جلد ۴ صفحه ۴۱۷) بَاب : التَّشَمُّرُ فِي القِيَابِ کپڑوں کو اوپر چڑھانا ٥٧٨٦ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۵۷۸۲:اسحاق بن راہویہ ) نے مجھ سے بیان ا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔(ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع)