صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 209
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن عبد اللہ نے اپنے باپ (حضرت عبد اللہ بن عمر) وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جس نے تکبر سے أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ اپنے کپڑے کو گھسیٹا اللہ اس کی طرف قیامت کے إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ دن نہیں دیکھے گا۔حضرت ابو بکڑ نے کہا: یارسول مِنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله ! میری تہ بند کا ایک طرف ڈھیلا ہو جاتا ہے وَسَلَّمَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ جُيَلَاءَ۔سوائے اس کے کہ میں اس کا خیال رکھوں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ ان لوگوں میں أطرافه ٣٦٦٥ ٥٧٨٣، ٥٧٩١ ٦٠٦٢۔سے نہیں جو تکبر سے ایسا کیا کرتے ہیں۔٥٧٨٥ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ :۵۷۸۵ محمد بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ کیا کہ عبد الا علیٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سے، یونس نے حسن (بصری) سے، حسن نے خَسَفَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ يَجُرُّ نے کہا: سورج گرہن ہوا اور اس وقت ہم نبی صلی ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔آپ جلدی سے اٹھے وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجُلِّيَ اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آئے اور لوگ بھی عَنْهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا وَقَالَ إِنَّ ادھر ادھر سے اکٹھے ہوئے۔آپ نے دورکعتیں پڑھیں اور سورج روشن ہو گیا۔اس کے بعد آپ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ہم سے متوجہ ہوئے اور فرمایا: سورج اور چاند اللہ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللهَ حَتَّى يَكْشِفَهَا۔أطرافه ١٠٤٠، ١٠٤٨، ١٠٦٢، ١٠٦٣- کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔جب تم ان نشانوں میں سے کوئی نشان دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے اس وقت تک دعائیں کرو کہ وہ اسکو ہٹا دے۔