صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 208 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 208

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۰۸ ۷۷۔کتاب اللباس جیلانی نے فرمایا اس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ میں کیوں ایسا کرتا ہوں۔آپ فرمانے لگے میں اُس وقت تک کوئی کھانا نہیں کھاتا جب تک خدا تعالیٰ خود نہیں کہتا کہ اے عبد القادر جیلانی ! تم یہ کھانا کھالو۔اور میں کوئی کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا تعالیٰ خود مجھ سے نہیں کہتا کہ اے عبد القادر جیلانی ! تم یہ کپڑا پہن لو۔غرض جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے خداتعالی دنیا خود اس کے قدموں میں لا ڈالتا ہے تاکہ وہ ظاہر کرے کہ مؤمنوں کو یہ چیزیں دنیوی ذرائع سے حاصل نہیں ہوتیں بلکہ جو میرا بن جاتا ہے میں خود اُسے یہ چیزیں دیتا ہوں۔“ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے، انوار العلوم جلد ۲۱ صفحہ ۹۸،۹۷) آپ مزید فرماتے ہیں: قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں لباس کے تین کام بتائے گئے ہیں اول ننگ ڈھانکنا۔دوم زینت کا موجب ہونا۔سوم سردی گرمی کے ضرر سے انسانی جسم کو بچانا۔چنانچہ فرمایا ہے: بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِى سواتِكُمْ وَرِيْشًا (الاعراف: ۲۷) یعنی اے آدم کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا ہے جو تمہارے ننگ کو ڈھانکتا ہے اور تمہارے لئے زینت کا موجب بھی ہے۔اسی طرح سورہ محل میں فرماتا ہے: وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الحَرَّ وَ سَرَابِيلَ تَقِيكُم بَأسَكُمْ (النحل: ۸۳) یعنی اس نے تمہارے لئے کئی قسم کی قمیصیں بنائی ہیں جو تمہیں گرمی سردی سے بچاتی ہیں۔اور بعض قمیصیں یعنی زر ہیں ایسی بھی ہیں جو تمہیں آپس کی جنگ کی سختی سے بچاتی ہیں۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة زير آيت أُحِلَّ لَكُم ليلة الصّيامِ الرَّفت جلد ۲ صفحہ ۴۱۱،۴۱۰) بَاب ۲ : مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنْ غَيْرِ خُيَلَاءَ جس نے اپنے تہ بند کو بغیر تکبر کے گھسیٹا ٥٧٨٤: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۵۷۸۴: احمد بن یونس نے ہمیں بتایا کہ زہیر (بن حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ معاویہ) نے ہم سے بیان کیا۔موسیٰ بن عقبہ نے عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ ہمیں بتایا۔موسیٰ نے سالم بن عبد اللہ سے ، سالم