صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 207
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس یہ بڑا نیک ہے، تو اس کو تو چیتھڑوں نے ہلاک کر دیا۔اور اگر کوئی اچھا لباس پہن کر فخر سے دنیا میں پھر رہا ہے فقر کے مقابل پر ، تو وہ اس آزمائش میں مبتلا ہو گیا اور جو اپنے غریب بھائیوں پر صرف اس لیے تکبر کی نگاہ ڈال رہا ہے کہ ان کے پاس تھوڑا لباس ہے یعنی چھوٹے درجے کا لباس ہے ، میرے پاس اچھے درجے کالباس ہے ، وہ بھی مارا گیا۔تو لباسُ التَّقوی رنگ بدلتا رہتا ہے۔کہیں یہ آپ کے پاس غربت میں آزمائش کے لئے آجاتا ہے، کہیں امارت میں آزمائش کیلئے آجاتا ہے۔اور ہر رنگ میں مومن کے لیے امتحان ہی امتحان ہے۔“ خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۳۰ جولائی ۱۹۸۲، جلد اول صفحہ ۷۹،۷۸) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لباس کے تعلق میں بھی خدا تعالیٰ نے تقویٰ کے پہلو سے جواب دیا ہے۔فرماتا ہے: لِبَاسُ التَّقْوى ذَلِكَ خَيْرٌ (الاعراف: ۲۷) لباس کے متعلق تم سوچتے ہو کہ کونسا اسلامی، کونسا غیر اسلامی کونسا مناسب، کونسا غیر مناسب تو ہمیشہ یاد رکھو کہ لبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ تمہیں تقویٰ کا لباس پہننا چاہئے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لباس میں تقویٰ کے خلاف کوئی چیز نہیں ہونی چاہئے۔اگر تم اس خیال سے اپنے لباس ٹھیک کرو گے کہ پتلون کی کریز نہ خراب ہو جائے۔یا کسی کروٹ پر بیٹھنے سے شلوار کی کریز خراب نہ ہو جائے تو تمہارا لباس لِباسُ التَّقوی نہیں رہے گا۔(خطبات طاہر ، خطبه جمعه فرموده ۲۳ اکتوبر ، ۱۹۹۲، جلد ۱۱، صفحہ ۷۵۴،۷۵۳) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سید عبد القادر صاحب جیلانی جو ایک بہت بڑے بزرگ گذرے ہیں وہ ہمیشہ عمدہ کھانا کھاتے تھے اور عمدہ لباس پہنتے تھے۔کسی دنیا دار نے آپ پر اعتراض کیا کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی " اچھے کپڑے پہنتے ہیں، اچھے کھانے کھاتے ہیں یہ بزرگ نہیں ہو سکتے۔کسی نے یہ بات آپ کو بھی بتادی کہ فلاں شخص نے آپ پر اعتراض کیا ہے کہ آپ اچھا کھاتے ہیں، اچھا پہنتے ہیں معلوم ہوتا ہے آپ بزرگ اور ولی اللہ نہیں، بھلا بزرگوں کو ان چیزوں سے کیا تعلق۔سید عبد القادر صاحب