صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 206 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 206

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۰۶ ۷۷۔کتاب اللباس میک اپ اور کپڑوں اور جوتوں اور زیورات کے دلکش ڈیزائنوں کا اتنا دلداہ ہے کہ خطیر رقم اسی دوڑ میں لگا رہا ہے۔اسلام انسان کو حسب حالات اور بقدر اسباب زیب و زینت سے ہر گز نہیں روکتا بلکہ فرماتا ہے کہ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ الله (الأعراف: ۳۳) اللہ کی (پیدا کر دہ) زینت کس نے حرام کی ہے۔عنوانِ باب میں امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے اس کی وضاحت کی ہے کہ كُلُوا وَانتر بوا وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ ولا تخيلت یعنی کھاؤ اور پیو اور پہنو اور صدقہ کرو مگر اسراف نہ ہو اور نہ ہی اتراؤ۔اسلام انسان کو اعتدال قائم رکھنے کی تاکید کرتا ہے، جس میں فخر و مباہات اور اسراف نام کی کوئی چیز نہ ہو۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جب تقویٰ پر بنیا د رکھی جائے تو ظاہری زینت سے نہ اسلام منع کرتا ہے نہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔آپ کے اپنے لباس میں بھی یہی عادت تھی کہ سادہ اور مناسب ضروری لباس پہنا کرتے تھے مگر اگر کوئی ظاہری زینت کا لباس بھی دے دیتا تھا تو اسے بھی استعمال فرمالیتے تھے اور قرآن کریم نے واضح تعلیم دی ہے کہ زینت کو اختیار کرنا یعنی ظاہری زینت کو اور نعمتوں کو استعمال کرنا ایمان کے خلاف نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے اول طور پر یہ نعمتیں اپنے مومن بندوں ہی کے لئے پیدا کی ہیں۔“ خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرمودہ ۷، جولائی ۱۹۸۹، جلد ۸ صفحه ۴۶۱، ۴۶۲) نفیس قیمتی اور اعلیٰ لباس پہنے سے اگر انسان کی روح اور جسم کا ذرہ ذرہ سپاس اور شکر گذاری کے جذبات میں مغلوب ہو کر اور اپنے خالق و مالک کے حضور عجز و نیاز سے جھکتا جاتا ہے تو یہی حقیقی لباس ہے جو اسے تقویٰ کے رنگ میں نصیب ہوتا ہے اگر یہ نہیں تو ہر لباس چاہے وہ اعلیٰ ہو یا ادنی ، انسان کے لیے رحمت کی بجائے زحمت اور راحت وسکون کی بجائے بے چینی اور بے قراری کا موجب بن جاتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: اگر تقویٰ کا لباس دنیاوی لباس کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے تو پھر وہ الہی رنگ پکڑتا ہے ورنہ نہیں پکڑتا۔ادنی لباس بھی تکبر کا موجب بن جاتا ہے اگر اس خوف سے پہنے کہ اگر میں نے اعلیٰ پہنا تو لوگ کیا کہیں گے کہ اچھا! یہ دُنیا دار ہے۔چیتھڑے پہنے ہوئے لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں۔حقیقت میں انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔اگر یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ میں چیتھڑوں میں بڑا بزرگ لگوں گا، میں کم کھاؤں گا تو بڑا اچھا لگوں گا، لوگ کہیں گے یہ بڑا صوفی ہے،