صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 205 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 205

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۰۵ ۷۷- کتاب اللباس باب ۱ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ (الاعراف: ۳۳) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تو کہہ اللہ کی زینت کس نے حرام کی جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور پیو اور كُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا فِي پہنو اور صدقہ کرو مگر اسراف نہ ہو اور نہ ہی اتراؤ غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ۔ وَقَالَ ابْنُ اور حضرت ابن عباس نے کہا: کھاؤ جو تم چاہو اور عَبَّاسٍ كُلِّ مَا شِئْتَ وَالْبَسْ مَا شِئْتَ پہنو جو تم چاہو ، جب تک تم سے دو فرو گزاشتیں نہ مَا أَخْطَأَتْكَ اثْنَتَانِ سَرَفٌ أَوْ مَخِيلَةٌ۔ ہوں اسراف اور اثرانا۔ ٥٧٨٣ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۵۷۸۳ : اسماعیل (بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ دِينَارٍ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ يُخْبِرُونَهُ عَنِ مالک نے نافع، عبد اللہ بن دینار اور زید بن اسلم ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ سے روایت کی۔ یہ تینوں حضرت ابن عمر رضی اللہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس شخص کی طرف نہیں دیکھتا جو اتراتے ہوئے اپنے أطرافه: ٣٦٦٥، ٥٧٨٤، ٥٧٩١، ٦٠٦٢ - کپڑے کو گھسیٹ کے چلتا ہے۔ تشريح ۔ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زينه الله ۔ تو کہ اللہ کی زینت کس نے حرام کی۔ اسلام دین فطرت ہے جیسا کہ فرمایا: فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : (۳۱) اللہ کی (پیدا کی ہوئی) فطرت کو اختیار کر۔ (وہ فطرت) جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اسلامی تعلیم فطرتِ انسانی کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ انسان چونکہ خدا تعالیٰ کا مظہر ۔ ظہر ہے اور صفات باری تو اتِ باری تعالیٰ میں ایک صفت جمیل بھی ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الله جميل يحب الجمال - کہ اللہ جمیل یعنی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ انسانی فطرت اس صفت کے مطابق جمال اور خوبصورتی کی اس قدر متمنی اور شائق ہے کہ آج کے دور کا انسان (صحیح مسلم، کتاب الايمان، بَابُ تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ)