صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 204
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۰۴ ۷۷۔کتاب اللباس یہ بات ہی غلط ہے۔ساری دنیا کا وہ لباس جو ان شرائط کو پورا کرنے والا ہے وہ اسلامی ہے۔ہم نے اپنے پورے لباس میں نماز پڑھنی ہے۔اگر کسی ملک میں ایسا لباس ہے جو نماز پڑھنے میں دقت پیدا کرتا ہے تو اتنا حصہ درستی کے قابل ہے اس کی اصلاح ہو جانی چاہیئے۔(خطبات ناصر ، خطبہ جمعہ فرموده ۴، جنوری ۱۹۸۰، جلد ۸ صفحه ۵۱۱) آپ مزید فرماتے ہیں: دو عثمان فودی جو ایک مجدد گزرے ہیں پچھلی صدی میں شمالی نائیجیریا میں انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے بدعت اور سنت پر۔۔۔بڑی اچھی کتاب ہے۔مثلاً انہوں نے کپڑے کے متعلق کہا۔انہوں نے لکھا ہے پورے حوالے دے کے، سر کا لباس اوپر کے دھڑ کا لباس، نچلے دھڑ کا لباس تینوں کو علیحدہ علیحدہ لیا ہے۔چھوٹاسا ایک صفحہ پونا صفحہ ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوپی بھی پہنی سر پر رومال بھی باندھا سر پر اور اس قسم کا جو آب رواج ہے جس طرح عمامهہ عرب کا وہ بھی پہنا اور شلوار بھی پہنی ، سارے حوالوں کا ذکر کر کے پھر اس سے نتیجہ یہ نکالا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت یہ ہے کہ جو لباس میسر آئے وہ استعمال کرو بڑا صحیح نتیجہ نکالا ہے اور ساری دنیا کے لئے بڑی عجیب گائیڈنس دے دی جو میسر آتا ہے وہ پہنو۔ٹھیک ہے اسلام نے کہا ہے بعض ننگ ہیں جن کو اسلام کہتا ہے ڈھانکو وہ ڈھانکنے چاہئیں۔اور اگر کوئی ضرورتیں ہیں وہ پوری ہونی چاہئیں۔اسلام کہتا ہے کہ ایسی طرز نہ ہو کہ نمائش کے خیال سے پہنا جائے۔ضرورت کے لئے نہ ہو بلکہ نمائش کے لئے ہو۔اسلام کہتا ہے کہ نمائش نہیں کرنی۔“ (خطبات ناصر ، خطبہ جمعہ فرموده ۴، جنوری ۱۹۸۰، جلد ۸ صفحه ۵۱۰ تا ۵۱۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: 66 ”جو کچھ آنحضرت صلعم کے خاص معاملات و مکالمات خلوت اور ستر میں بیویوں سے تھے یا جس قدر اکل اور شرب اور لباس کے متعلق اور معاشرت کی ضروریات میں روز مرہ کے خانگی امور تھے سب اسی خیال سے احادیث میں داخل کئے گئے کہ وہ تمام کام اور کلام روح القدس کی روشنی سے ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۳)