صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 203 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 203

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷- كتاب اللباس بسم الله الرحمن الرحيم ۷۷ - كتاب اللباس لباس کے متعلق (احادیث) ناب اللباس ۱۰۳ ابواب اور ۱۸۷ احادیث پر مشتمل ہے۔امام بخاری نے کتاب اللباس میں پہناوے سے متعلقہ روایات کو یکجا کر دیا ہے تا کہ آنے والے زمانے میں جب مختلف علاقوں اور قوموں کے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوں تو انہیں اس معاملے میں بھی اسلام کی واضح تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ مل سکے۔"لغت میں تجس کے اصل معانی پردہ کرنا بیان کیے گئے ہیں۔اور لبس القوب کے معنی ہیں: اس نے اس کے ذریعہ پر وہ کیا۔(اقرب الموارد - لبس) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لباس کے معنے مفردات میں یوں لکھتے ہیں: وَجُعِلَ اللَّبَاسُ لِكُلِّ مَا يُعَتِى مِن الْإِنْسَانِ عَن قَبيحِ یعنی لباس کا لفظ ہر ایسی چیز پر بولا جاتا ہے جو انسانی عیوب اور نقائص کو چھپا دیتی ہے۔“ ( تفسير كبير، سورة النبأ زير آيت وَجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا، جلد ۸ صفحه (١٦) اسلام کا یہ خاص امتیاز ہے کہ یہ عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے اور یہ دیگر مذاہب کی طرح کسی خاص قوم یاز مانے کے لیے نہیں۔بلکہ ہر قوم ہر زمانے اور ہر علاقے کے لوگوں کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات اور جامع تعلیم ہے اور اس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ایک کامل اسوہ حسنہ ہے۔آج کے زمانے کا یہ سوال کہ کونسالباس اسلامی ہے اور کونسا غیر اسلامی تو اس بارے میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر وہ لباس جو انسان کی مکمل ستر پوشی کرے، پاک صاف ہو، موسم کے مطابق ہو اور زینت کا باعث ہو۔وہی لباس اسلامی ہے خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہو۔اس حوالے سے حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک میں بات بتادوں اگر اسلام ساری دنیا کے لئے ہے اور یقینا اسلام ساری دنیا کے لئے ہے تو پھر ہر ملک کا لباس اسلامی لباس ہے۔اگر کسی ملک کا لباس اس قسم کا ہے کہ اُس ننگ کو وہ صحیح طور پر ڈھانپتا نہیں جو اسلام نے کہا ہے ڈھانپو۔تو اتنی تبدیلی اس لباس میں ہو جانی چاہیئے کیونکہ ایک اور حکم ہے جس کی خلاف ورزی کر رہا ہے وہ۔- لیکن یہ کہنا کہ مغربی افریقہ کا لباس اسلامی نہیں باوجود اس کے کہ وہ یہ شرائط پوری کر رہا ہے کہ ستر جو ہے اس کو ڈھانک رہا ہے اور پنجاب کا جو لباس ہے وہ اسلامی ہے یا عرب کا لباس جو ہے وہ اسلامی ہے اور یورپ کا لباس اسلامی نہیں۔