صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 202
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۰۲ ۷۶ - كتاب الطب رہے ہیں کہ اس میں ایسی چیز ہے جو بیکٹیریا کو ختم کرتی ہے۔ایک ریسرچ کرنے والے نے لکھا ہے کہ کبھی کو Ethenol میں ڈبو کر اس کو بعض قسم کے بیکٹیریا بشمول ہسپتال کے پیتھوجن (Pathogen) پر استعمال کیا گیا تو اس میں اینٹی بایوٹک عمل ظاہر ہوا اور جتنے بیکٹیریا تھے وہ مر گئے۔ایک اور ریسرچ ٹوکیو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے کی ہے۔کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ہسپتالوں میں لکھیاں اینٹی بایوٹک کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔مکھیوں میں ایسی چیز بھی نکلی ہے جو قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔رزسٹنس (Resistance) پیدا کرتی ہے۔یا امیون سسٹم (Immune System) کو ڈویلپ کرتی ہے۔مکھیوں کی ریسرچ کی طرف سائنسدانوں کا خیال اس لئے بھی گیا کہ مکھیاں گندی جگہوں پر بیٹھتی ہیں۔بہت ساری بیماریوں کو لئے پھرتی ہیں۔کالرا ( Cholara) وغیرہ کے جراثیم بھی اس میں ہوتے ہیں لیکن یہ خود کسی بیماری سے متاثر نہیں ہو تیں۔اس بات کی وجہ سے ان کو اس پر ریسرچ کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔اور تب انہوں نے دیکھا کہ اس میں اینٹی بیکٹیرئیل (Anti Bacterial) قسم کی کچھ چیزیں پائی جاتی ہیں۔یہ بھی انہوں نے دیکھا کہ جب لکھی کسی سیال (Liquid) چیز پانی یا دودھ وغیرہ میں گرتی ہے تو اس کو بیماری کے بعض جراثیم سے خراب کر دیتی ہے۔اس کے پروں پر جو جراثیم لگے ہوتے ہیں فوری طور پر وہاں ان کا اثر شروع ہو جاتا ہے۔لیکن اگر اس مکھی کو ڈبو دیا جائے تو اس میں سے ایسے انزائمز نکلتے ہیں جو ارد گرد کے بیکٹیریا کو فور آمار دیتے ہیں۔تو اسلام کے شافی خدا کی یہ عجیب حیرت انگیز شان ہے جس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آج سے ۱۴ سو سال پہلے علاج کے یہ طریقے سکھا دیئے جن پر آج دنیا ریسرچ کر رہی ہے۔لیکن ان سب علاجوں کی نشاندہی کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو خاص طور پر یہی بتایا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دعا علاج ہے، صدقہ علاج ہے ، علاج کے ساتھ صدقہ اور دعا کرو۔“ (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ دسمبر ۲۰۰۸، جلد ۶، صفحہ ۵۱۸٬۵۱۷)