صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 201
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۰۱ ۷۶ - كتاب الطب مَرَارَةُ السَّبُعِ۔قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي منع فرمایا ہے اور اس کے دودھ پینے یا نہ پینے کے أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ متعلق ہمیں کوئی خبر نہیں پہنچی اور جو درندے کا پتا الْحُشَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى ہے تو ابن شہاب نے کہا: مجھے ابوادر میں خولانی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلَّ نے بتایا کہ حضرت ابو ثعلبہ خشنی نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے ذِي نَابٍ مِنَ السَّباع۔أطرافه : ٥٥٣٠، ٥٧٨٠- درندے کے کھانے سے منع کیا ہے۔باب ٥٨: إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الْإِنَاءِ اگر بر تن میں مکھی گر پڑے ٥٧٨٢ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۵۷۸۲ : قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقبہ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَمِيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ بن مسلم سے، جو بنو تمیم کے غلام تھے۔عقبہ نے حُنَيْنٍ مَوْلَى بَنِي زُرَيْقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عبيد بن حسنین سے جو بنو زریق کے غلام تھے۔عبید رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَقَعَ الدُّبَابُ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر پڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کو ڈبو دے اور پھر اس کو پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور دوسرے فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءٌ۔طرفه: ۳۳۲۰۔میں شفا۔تشريح الما وقع الكتاب في الإقليه اگر برتن میں بھی گر پڑے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیر فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے یہ کبھی کے بارہ میں یہ جو ہمیں بتایا ہے۔آج کے سائنس دان بھی اس پر ریسرچ کر رہے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچ