صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 198
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۹۸ ۷۶ - كتاب الطب اور فرمایا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے ؟ اس نے کہا آپ کو یہ کس نے بتایا ہے ؟ آپ کے ہاتھ میں اُس وقت بکری کا دست تھا آپ نے فرمایا اس ہاتھ نے مجھے بتایا ہے۔ اس پر اس عورت نے سمجھ لیا کہ آپ پر یہ راز کھل گیا ہے اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے زہر ملایا ہے ؟ اس پر آپ نے اس سے پوچھا کہ اس نا پسندیدہ فعل پر تم کو کس بات نے آمادہ کیا ؟ اُس نے جواب دیا کہ میری قوم سے آپ کی لڑائی ہوئی تھی اور میرے رشتہ دار اس لڑائی میں مارے گئے تھے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں ان کو زہر دے دوں۔ اگر ان کا کاروبار انسانی کا روبار ہو گا تو ہمیں ان سے نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ واقعہ میں نبی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کو خود بچالے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن کر اُسے معاف فرمادیا۔ اور اس کی سزا جو یقیناً قتل تھی نہ دی۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۳۲۷ تا ۳۲۹) ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳، حاشیه صفحه ۲۶۳) بَاب ٥٦ : شُرْبُ السُّمِّ وَالدَّوَاءُ بِهِ وَمَا يُخَافُ مِنْهُ وَالْخَبِيثُ زہر پینا اور اس سے علاج کرنا نیز اس سے متعلق خدشات اور جو ناپاک ہو ٥٧٧٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۵۷۷۸ : عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہمیں بتایا کہ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ہمیں بتایا، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے کہا ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ میں نے ذکوان سے سنا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے