صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 197
صحیح البخاری جلد ۱۴ 192 ۷۶- كتاب الطب -24 ابوالقاسم ! میں آپ کے لئے ایک تحفہ لائی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ساتھی صحابی سے فرمایا جو چیز یہ دیتی ہے اس سے لے لو۔اس کے بعد آپ کھانے کے لئے بیٹھے تو کھانے پر وہ بھنا ہوا گوشت بھی رکھا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک لقمہ کھایا اور آپ کے ایک صحابی بشیر بن البراء بن المعروڑ نے بھی ایک لقمہ کھایا۔اتنے میں باقی صحابہ نے بھی گوشت کھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے فرمایا مت کھاؤ کیونکہ اس ہاتھ نے مجھے خبر دی ہے کہ گوشت میں زہر ملا ہوا ہے ( اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کو اس بارہ میں کوئی الہام ہوا تھا بلکہ یہ عرب کا محاورہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا گوشت چکھ کر مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک دیوار کے متعلق آتا ہے کہ وہ گرنا چاہتی تھی۔جس کے محض یہ معنی ہیں کہ اس میں گرنے کے آثار پیدا ہو چکے تھے۔پس اس جگہ پر بھی یہ مراد نہیں کہ آپ نے فرمایاوہ دست بولا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا گوشت چکھنے پر مجھے معلوم ہوا ہے۔چنانچہ اگلا فقرہ ان معنوں کی وضاحت کر دیتا ہے ) اس پر بشیر نے کہا کہ جس خدا نے آپ کو عزت دی ہے اس کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی اس لقمہ میں زہر معلوم ہوا ہے۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس کو پھینک دوں لیکن میں نے سمجھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو شاید آپ کی طبیعت پر گراں نہ گزرے اور آپ کا کھانا خراب نہ ہو جائے اور جب آپ نے وہ لقمہ نگلا تو میں نے بھی آپ کے تتبع میں وہ نگل لیا۔گو میرا دل یہ کہہ رہا تھا کہ چونکہ مجھے شبہ ہے کہ اس میں زہر ہے اس لئے کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لقمہ نہ لگیں۔اس کے تھوڑی دیر بعد بشیر کی طبیعت خراب ہو گئی اور بعض روایتوں میں تو یہ ہے کہ وہ وہیں خیبر میں فوت ہو گئے اور بعض میں یہ ہے کہ اس کے بعد کچھ عرصہ بیمار رہے اور اس کے بعد فوت ہو گئے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ گوشت اس کا ایک کتے کے آگے ڈلوایا جس کے کھانے سے وہ مر گیا۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا