صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 188 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 188

صحیح البخاری جلد ۱۴ ١٨٨ ۷۶ - كتاب الطب -24 تھا اس لیے آپ کو قرآن کریم بھی ایک معجزہ اسی رنگ کا ملا۔یہ رنگ اسی لئے اختیار کیا کہ شعراء جادو بیان سمجھے جاتے تھے اور ان کی زبان میں اتنا اثر تھا کہ وہ جو چاہتے تھے چند شعر پڑھ کر کرا لیتے تھے۔اُن کے پاس زبان تھی جو دلیری اور حوصلہ پیدا کر دیتی تھی۔ہر حربہ میں وہ شعر سے کام لیتے تھے اور فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ (الشعراء: ۲۲۶) کے مصداق تھے۔اس لیے اُس وقت ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ اپنا کلام بھیجتا۔پس خدا تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایا اور اسی کلام کے رنگ میں اپنا معجزہ پیش کر دیا۔جبکہ اُن کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ اِن كُنتُم فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ۔۔( البقرۃ: ۲۴) تم جو اپنی زبان دانی کا دم مارتے اور لاف زنی کرتے ہو اگر کوئی قوت اور حوصلہ ہے تو اس کلام کے معجزہ کے مقابل کچھ پیش کر کے دکھاؤ لیکن باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ اگر کچھ نہ بنایا ( خصوصاً ایسی حالت میں کہ جب تحریسی کر دی گئی ہے کہ تم ہرگز ہرگز بنانہ سکو گے ) تو ملزم ہو کر ذلیل ہو جائیں گے۔پھر بھی وہ کچھ پیش نہ کر سکے۔اگر وہ کچھ بناتے اور پیش کرتے تو صحیح تاریخ ضرور شہادت دیتی، مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی نے کچھ بنایا ہو۔پس خدا تعالیٰ نے اُس وقت اُسی رنگ کا معجزہ دکھایا تھا۔“ باب ٥٢: الدَّوَاءُ بِالْعَجْوَةِ لِلسِّحْرِ عجوہ کھجور سے جادو کا علاج کرنا ٥٧٦٨ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ لمفوظات جلد ۲ صفحه ۱۲۶) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ :۵۷۶۸ علی بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا هَاشِمٌ أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ کیا کہ مروان بن معاویہ فزاری) نے ہمیں عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ بتایا۔ہاشم ( بن ہاشم بن عتبہ ) نے ہم سے بیان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کیا۔عامر بن سعد نے اپنے باپ (حضرت سعد اصْطَبَحَ كُلَّ يَوْمٍ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔يَضُرَّهُ سُمٌ وَلَا سِحْرٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى انہوں نے کہا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو