صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 187
صحیح البخاری جلد ۱۴ : IAZ بَاب ٥١: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا یقیناً بعض تقریریں بھی جادو ہوتی ہیں ۷۶ - كتاب الطب ٥٧٦٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۷۶۷: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْن أَسْلَمَ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زید عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بن اسلم سے، زید نے حضرت عبد اللہ بن عمر أَنَّهُ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ مشرق سے دو آدمی فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ آئے اور ان دونوں نے تقریریں کیں۔لوگوں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ نے ان کے بیان کو پسند کیا۔رسول اللہ الْبَيَانِ لَسِحْرًا أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا بعض تقریریں بھی جادو ہوتی ہیں یا فرمایا: کوئی تقریر بھی جادو ہی سخر۔طرفه: ٥١٤٦ - ہوتی ہے۔تشريح : إِنَّ مِنَ البَيَانِ سحرا : یقینا بعض تقریریں بھی جادو ہوتی ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سحر کہتے ہیں دل زبا باتوں کو خواہ از قسم عملیات ہوں یا شعبدہ بازی یا تسخیر محلّ ما دِق وَ لَطَفَ مَأْخَذُهُ جس کی دریافت نہایت بار یک در بار یک هوسران مِنَ الْبَيَان لسخراً بھی آیا ہے اس لئے ناول بھی سحر میں داخل ہے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد اول صفحه ۲۰۶،۲۰۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صحیح تاریخ ایک عمدہ معلم ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہر نبی کے معجزات اس رنگ کے ہوتے ہیں، جس کا چرچا اور زور اُس کے وقت میں ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سحر کا بہت بڑا زور تھا۔اس لیے ان کو جو معجزہ دیا گیا وہ ایسا تھا کہ اس نے اُن کے سحر کو باطل کر دیا اور ہمارے نبی کریم کے وقت میں فصاحت و بلاغت کا زور