صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 186
صحیح البخاری جلد ۱۴ IAY ۷۶ - كتاب الطب رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ثُمَّ قَالَ يا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: میرے أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک میرے قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَهُ قَالَ لَبِيدُ سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پائنتی۔پھر اُن بْنُ الْأَعْصَمِ الْيَهُودِيُّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اس شخص کو قَالَ فِيمَاذَا قَالَ فِي مُشْطِ وَمُشَاطَةٍ کی بیماری ہے ؟ اس کا ساتھی یوں بولا: اسے جادو کیا گیا ہے۔اس کے ساتھی نے کہا: اس کو کس نے وَجُفٌ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ جادو کیا ہے ؟ جواب دیا: لبید بن اعصم یہودی نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ فِي بِثْرِ ذِي أَرْوَانَ قَالَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ جو بنی زریق قبیلے سے ہے۔پوچھا: کس میں جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لکھی اور سکھی کے بالوں میں اور أَصْحَابِهِ إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا وَکھجور کے خوشے کے غلاف میں۔پوچھا: یہ کہاں نَحْلٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ وَاللَّهِ ہے؟ اس نے کہا: ذی اروان کنویں میں۔عروہ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ قُلْتُ يَا کچھ آدمیوں سمیت اس کنوئیں پر گئے اور اس کو رَسُولَ اللَّهِ أَفَأَخْرَجْتَهُ قَالَ لَا أَمَّا أَنَا دیکھا اور وہاں کھجوروں کے درخت تھے۔پھر فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ وَشَفَانِي وَخَشِيتُ أَنْ حضرت عائشہ کے پاس لوٹ آئے اور فرمانے أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا وَأَمَرَ بِهَا لگے: اللہ کی قسم ! اس کا پانی ایسا تھا جیسے مہندی کا فَدُفِنَتْ۔پانی اور وہاں کے درخت ایسے تھے جیسے سانپوں کے پھن۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے اس کو نکال دیا؟ فرمایا: نہیں مجھے جب خدا نے تندرست کر دیا ہے اور شفا دے دی ہے اور مجھے خدشہ تھا کہ میں اس وجہ سے لوگوں کے برخلاف کسی شر کو نہ بھڑکا دوں۔آپ نے اس کنوئیں کے متعلق حکم دیا اور وہ دفنا دیا گیا۔أطرافه ٣١٧٥، ٣٢٦٨، ٥٧٦، ٥٧٦٥، ٦٠٦٣، ٦٣٩١ -