صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 181
صحیح البخاری جلد ۱۴ IAI ۷۶ - كتاب الطب ہو بھی گیا تھا۔۔۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جادو ٹونے کی چیزیں نکال کر زمین میں دفن کر دیں تو یہودیوں کو خیال ہو گیا کہ انہوں نے جو جادو کیا تھاوہ باطل ہو گیا ہے۔اس روایت سے جہاں یہودیوں کے اس عناد کا پتہ چلتا ہے جو اُن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا۔وہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ان تمام باتوں کا علم دیدیا گیا جو یہودی آپ کے خلاف کر رہے تھے۔پس آپ کو غیب کی باتوں کا معلوم ہو جانا اور یہودیوں کا اپنے مقصد میں ناکام رہنا آپ کے سچارسول ہونے کی واضح اور بین دلیل ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة الفلق، جلد ۱۰ صفحه ۵۴۲،۵۴۱) مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات پایہ ثبوت پہنچتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر گز ہرگز جادو نہیں ہوا تھا۔اس کا ایک تازہ نشان آج کے زمانے میں آپ کے بروز کامل کے ذریعے ظاہر ہو کر آپ کی ذات والا صفات کو ان الزامات سے کلیۂ پاک کرتا ہے۔چنانچہ آپ کے غلام کامل حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے متعلق سیرت المہدی میں یہ واقعہ لکھا ہے ایک دفعہ ایک متعصب ہندو جو گجرات کا رہنے والا تھا قادیان آیا تھا۔اور وہ علم توجہ یعنی ہیپینو ٹزم کے سحر کا بڑا ماہر تھا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ پر خاموشی کے ساتھ توجہ ڈالنی شروع کی تاکہ آپ سے بعض نازیبا حرکات کرا کے آپ کو لوگوں کی ہنسی کا نشانہ بنائے مگر جب اس نے آپ پر توجہ ڈالی تو وہ چیخ مار کر بھاگا۔اور جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں یہ کیا ہوا تھا تو اس نے جواب دیا کہ جب میں نے مرزا صاحب پر توجہ ڈالی تو مجھے یوں نظر آیا کہ میرے سامنے ایک خوفناک شیر کھڑا ہے جو مجھ پر حملہ کرنے والا ہے اور میں اس سے ڈر کر بھاگ نکلا۔تو جب خادم کا یہ مقام ہے تو آقا کے متعلق یہ خیال کرنا کہ آپ نعوذ باللہ ایک یہودی کے ہیپینوٹزم کا نشانہ بن گئے تھے کس طرح قبول کیا جاسکتا ہے۔“ ( مضامین بشیر ، جلد ۳، مضامین ۱۹۵۹ صفحه ۶۴۲ تا۶۵۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جادو بھی شیطان کی طرف سے ہوتا ہے رسولوں اور نبیوں کی یہ شان نہیں ہوتی