صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 180 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 180

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۸۰ ۷۶ - كتاب الطب عارضہ ہے۔مثلاً علامہ نازری فرماتے ہیں۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر بیشمار پختہ دلائل موجود ہیں اور آپ کے معجزات بھی آپ کی سچائی پر گواہ ہیں۔باقی عام دنیا کے امور جن کے لیے آپ مبعوث نہیں کیے گئے تھے سو اس تعلق میں یہ ایک بیماری کا عارضہ سمجھا جائے گا جیسا کہ انسان کو دوسری بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔اور علامہ ابن القصار فرماتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو یہ ، نسیان کا پیش آیا تو یہ بیماریوں میں سے ایک بیماری تھی جیسا کہ حدیث کے ان آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ اللہ نے مجھے شفا دے دی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حالت جسے دشمنوں کے سحر کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے وہ ہر گز کسی سحر وغیرہ کا نتیجہ نہیں تھی۔بلکہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت محض نسیان کی بیماری تھی جسے بعض فتنہ پرداز لوگوں نے رسول پاک کی ذاتِ والا صفات کے خلاف پراپیگنڈے کا ذریعہ بنالیا۔قرآن مجید نبیوں پر سحر کے قصہ کو دور سے ہی دھکے دیتا ہے عقل انسانی اسے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔حدیث کے الفاظ اس تشریح کو جھٹلاتے ہیں جو اس پر مڑھی جارہی ہے۔اور خود سرور کائنات افضل الرسل کا ارفع مقام سحر والے قصہ کے تار پود بکھیر رہا ہے۔66 ( مضامین بشیر ، جلد ۳، مضامین ۱۹۵۹ صفحه ۶۴۲ تا ۶۵۳) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں جن دو مر دوں کا ذکر آتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو فرشتے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے گئے۔اگر وہ انسان ہوتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نظر آجاتے۔یہ روایت جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی گئی ہے اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ سے خبر دی کہ یہودیوں نے آپ پر جادو کیا ہوا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح جادو کا اثر تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر