صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 182
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۸۲ ۷۶ - كتاب الطب کہ ان پر جادو کا کچھ اثر ہو سکے بلکہ ان کو دیکھ کر جادو بھاگ جاتا ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آتی (طه:۷۰) دیکھو حضرت موسیٰ کے مقابل پر جادو تھا آخر موسیٰ غالب ہوا کہ نہیں؟ یہ بات بالکل غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر جادو غالب آ گیا ہم اس کو کبھی نہیں مان سکتے۔آنکھ بند کر کے بخاری اور مسلم کو مانتے جانا یہ ہمارے مسلک کے برخلاف ہے۔یہ تو عقل بھی تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایسے عالی شان نبی پر جادو اثر کر گیا ہو۔ایسی باتیں کہ اس جادو کی تاثیر سے (معاذ اللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظہ جاتا رہا یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا کسی صورت میں صحیح نہیں ہوسکتیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبیث آدمی نے اپنی طرف سے ایسی باتیں ملادی ہیں۔گو ہم نظر تہذیب سے احادیث کو دیکھتے ہیں۔لیکن جو حدیث قرآن کریم کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کے برخلاف ہو اس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔اس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا گو انہوں نے سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا مگر پوری احتیاط سے کام نہیں لے سکے وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے آثار نبی جمع کرنا بڑے ثواب کا کام ہے لیکن یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جمع کرنے والے خوب غور سے کام نہیں لے سکتے۔اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ خوب غور اور فکر سے کام لے جو ماننے والی ہو وہ مانے اور جو چھوڑنے والی ہو وہ چھوڑ دے ایسی بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اللہ ) جادو کا اثر ہو گیا تھا اس سے تو ایمان اٹھ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا (بنی اسرائیل: ۴۸) ایسی ایسی باتیں کہنے والے تو ظالم ہیں نہ مسلمان۔یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اللہ ) سحر اور جادو کا اثر ہو گیا تھا اتنا نہیں سوچتے کہ جب (معاذ اللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے تو پھر اُمت کا کیا ٹھکانا؟ وہ تو پھر غرق ہو گئی معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء مش شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں یہ ان کی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں۔“ (ملفوظات، جلد ۵ صفحہ ۳۴۹،۳۴۸)