صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 179
صحیح البخاری جلد ۱۴ 129 ۷۶ - كتاب الطب اس لطیف آیت میں انبیاء کی دوہری حیثیت کو نہایت عمدہ طریق پر بیان کیا گیا ہے۔یعنی انہیں ایک جہت سے دوسرے انسانوں سے ممتاز کیا گیا ہے اور دوسری جہت سے ان کو دوسرے انسانوں کی صف سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ انبیاء بشری لوازمات اور انسان کے طبعی خطرات سے بالا ہوتے ہیں وہ جھوٹا ہے۔یقینا انبیاء بھی اسی طرح بیمار ہوتے ہیں جس طرح کہ دوسرے انسان بیمار ہوتے ہیں۔اگر اس جگہ کسی کو یہ خیال گزرے کہ قرآن تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسى O (الاعلى :) (یعنی ہم تجھے ایسی تعلیم دیں گے جسے تو نہیں بھولے گا)۔تو اس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہیے کہ یہ وعدہ صرف قرآنی وحی کے متعلق ہے نہ کہ عام۔اور مراد یہ ہے کہ اے رسول! ہم اپنی جو وحی تجھ پر اُمت کی ہدایت کے لیے نازل کریں گے اسے تو نہیں بھولے گا اور ہم قیامت تک اس کی حفاظت کریں گے۔عام روزمرہ کی باتوں اور دنیوی امور یا دینی اعمال کے ظاہری مراسم کے متعلق یہ وعدہ ہر گز نہیں ہے۔چنانچہ حدیث سے ثابت ہے کہ آپ کئی موقعوں پر بشری لازمہ کے ماتحت بھول جاتے تھے بلکہ حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ آپ بعض اوقات نماز پڑھاتے ہوئے رکعتوں کی تعداد کے متعلق بھی بھول گئے اور لوگوں کے یاد کرانے پر یاد آیا۔(بخاری ومسلم) اسی طرح اور کئی موقعوں پر آپ بھول جاتے تھے۔بلکہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے متعلق فرمایا ہے کہ رائما انا بشر أنسى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكَرُوني (ابو داؤد کتاب الصلوة باب اذا صلی خمسا یعنی میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں اور جس طرح تم کبھی بھول جاتے ہو میں بھی بھول سکتا ہوں۔پس اگر میں کسی معاملہ میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلا دیا کرو۔پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کبھی عام اور وقتی نسیان ہو جاتا تھا اسی طرح صلح حدیبیہ کے بعد کچھ عرصہ کے لیے بیماری کے رنگ میں نسیان ہو گیا۔چنانچہ یہی وہ تشریح ہے جو سحر والی روایت کے تعلق میں بعض گزشتہ علماء نے کی