صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 178 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 178

صحیح البخاری جلد ۱۴ IZA -24 ۷۶ - كتاب الطب باندھ کر اسے ایک کنویں میں دبا دیا اور مخفی گپ بازی شروع ہو گئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید پریشانی کا موجب ہوئی۔(۴) اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حضور گھبراہٹ اور اضطراب کے ساتھ دعائیں کیں کہ خدایا تو اپنے فضل سے اس فتنہ کا سد باب فرما اور مجھ پر اس کی حقیقت کو کھول دے تاکہ میں اس فتنہ کا ازالہ کر کے سادہ مزاج لوگوں کو ٹھوکر سے بچا سکوں۔(۵) خدا تعالیٰ نے آپ کی ان دعاؤں کو سنا اور لبید بن اعصم کی شرارت کا پول کھول دیا جس پر آپ چند گواہوں کی معیت میں اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اس کنگھی کو سپر د خاک کر دیا بلکہ کنویں تک کو پاٹ دیا تا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔بالآخر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خدا تعالیٰ کے ایک عالی شان نبی بلکہ افضل الرسل اور خاتم النبیین تھے آپ کو نسیان کا عارضہ کیوں لاحق ہو ا جو بظاہر فرائض نبوت کی ادائیگی میں رخنہ انداز ہو سکتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہیے کہ ہر نبی کی دوہری حیثیت ہوتی ہے۔ایک پہلو کے لحاظ سے وہ خدا کا نبی اور رسول ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کلام سے مشرف ہوتا ہے اور دینی امور میں اپنے متبعین کا استاد قرار پاتا اور ان کے لیے اُسوہ بنتا ہے اور دوسرے اس پہلو کے لحاظ سے وہ انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے اور تمام ان بشری لوازمات اور طبعی خطرات کے تابع ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى (الكهف: ااا) یعنی اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں اور تمام ان قوانین کے تابع ہوں جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں) ہاں میں یقیناً خدا کا ایک رسول بھی ہوں اور خدا کی طرف سے مخلوق خدا کی ہدایت کے لیے وحی والہام سے نوازا گیا ہوں۔