صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 177
صحیح البخاری جلد ۱۴ 122 -24 ۷۶- كتاب الطب یہ کہا کہ اس شخص کو سحر کیا گیا ہے تو ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ ہمارے خیال میں سحر کیا گیا ہے مگر مراد یہ تھی کہ لوگ کہتے ہیں کہ اسے سحر کیا گیا ہے۔اور خواب کی اصل غرض و غایت اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ جو چیز ان خبیثوں نے چھپا کر ایک کنویں میں رکھی ہوئی تھی اور اس کے ذریعہ وہ اپنے ہم مشرب لوگوں کو دھوکا دیتے تھے۔اسے خدا اپنے رسول پر ظاہر کر دے تا ان کے اس مزعومہ سحر کو ملیا میٹ کر دیا جائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کے سحر کا آلہ سپر د خاک کر دیا گیا اور کنویں کو پاٹ دیا گیا اور بالواسطہ طور پر اس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کا یہ فکر بھی کہ یہ لوگ اس قسم کی شرارتیں کر کے سادہ مزاج لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں زائل ہو گیا اور یہ خدائی وعدہ بڑی آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا کہ لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آئی (طه: ۷۰) یعنی ایک ساحر خواہ کوئی سا طریق اختیار کرے وہ خدا کے ایک نبی کے مقابل پر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔بہر حال او پر والی حدیث سے ذیل کی باتیں ثابت ہوتی ہیں: (۱) یہ کہ صلح حدیبیہ کے واقعہ کے بعد جس کی وجہ سے طبعاً آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دوسروں کی لغزش کے خیال سے کافی فکر مند تھے۔اور آپ کئی دنیوی باتیں جو گھریلو معاملات سے تعلق رکھتی تھیں بھول جاتے تھے۔(۲) آپ کی اس حالت کو دیکھ کر یہودیوں اور منافقوں نے جو ہمیشہ ایسی باتوں کی آڑ لے کر اسلام اور مقدس بانی اسلام کو بد نام کرنا چاہتے تھے یہ مخفی چر چاشروع کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے۔ان کا یہ چرچا ایسا ہی تھا جیسا کہ انہوں نے غزوہ بنی مصطلق میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے حضرت عائشہ کو بدنام کرنا شروع کر دیا تھا اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تلخ کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی۔(۳) اس مزعومہ سحر کی ظاہری علامت کے طور پر تاکہ سادہ طبع لوگوں کو زیادہ آسانی سے دھوکا دیا جا سکے ان خبیث فطرت لوگوں نے ایک یہودی النسل منافق لبید بن اعصم کے ذریعہ اپنے طریق کے مطابق ایک کنگھی میں کچھ بالوں کی گرہیں