صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 176
صحیح البخاری جلد ۱۴ IZY ۷۶ - كتاب الطب کے کچھ درخت اُگے ہوئے تھے ( یعنی وہ اند میر ا سا کنواں تھا۔پھر آپ حضرت عائشہ کے پاس واپس تشریف لائے اور ان سے فرمایا عائشہ میں اسے دیکھ آیا ہوں۔اس کنویں کا پانی مہندی کے پانی کی طرح سرخی مائل ہو رہا ہے (یہودیوں کا طریق تھا کہ لوگوں کی نظروں کو دھوکا دینے کے لیے ایسے کنویں کے پانی کو رنگ دیتے تھے ) اور اس کے کھجور کے درخت، تھوہر کے درختوں کی طرح مکروہ نظر آتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا: آپ نے اس کنگھی وغیرہ کو باہر نکالو ا کر پھینک کیوں نہ دیا؟ آپ نے فرمایا خدا نے مجھے محفوظ رکھا اور مجھے شفا دے دی تو پھر میں اسے باہر پھینک کر لوگوں میں ایک بری بات کا چرچا کیوں کرتا؟ (جس سے کمزور طبیعت کے لوگوں میں سحر کی طرف خواہ نخواہ توجہ پیدا ہونے کا اندیشہ تھا) پس اس کنویں کو دفن کر کے بند کروا دیا گیا ہے۔یاد رکھنا کہ حکایت عن الغیر (یعنی گفته آید در حدیث دیگراں) کا طریق کلام عربوں میں عام رائج تھا بلکہ خود قرآن مجید نے بھی بعض جگہ اس طرز کلام کو اختیار کیا ہے۔چنانچہ ایک جگہ دوزخیوں کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ (الدخان: ۵۰) یعنی اے جہنم میں ڈالے جانے والے شخص ! تو خدا کے اس عذاب کو چکھ۔بے شک تو بہت عزت والا اور بڑا شریف انسان ہے۔اس جگہ یہ مراد ہر گز نہیں کہ نعوذ باللہ خدا دوزخیوں کو معزز اور شریف خیال کرتا ہے بلکہ حکایت عن الغیر کے رنگ میں مراد یہ ہے کہ اے وہ انسان جسے اس کے ساتھی اور وہ خود معزز اور شریف خیال کرتے تھے تو اب خدا کے آگ کے عذاب کا مزا چکھ۔بعینہ یہی رنگ اس رویا میں ان دو آدمیوں یا دو فرشتوں نے اختیار کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رویا میں نظر آئے تھے۔چنانچہ انہوں نے جب 1 فتح الباری میں ہے کہ وہ کنگھی اور بال حضرت جبیر بن ایاس نے ذروان کنویں سے نکالے تھے اور ایک اور روایت کے مطابق حضرت قیس بن محصن نے نکالے تھے۔(فتح الباری، جزء ۱۰صفحہ ۲۸۳)