صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 175
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۷۵ ۷۶ - كتاب الطب نتیجہ میں بخاری کی یہ روایت یقیناً حکایت عن الغیر کے رنگ میں سمجھی جائے گی۔جس میں بظاہر کلام کرنے والا اپنی طرف سے کلام کرتا ہے مگر حقیقتا مراد یہ ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ یوں کہتے ہیں اور اس طرح اس روایت کا ترجمہ یہ بنتا ہے : حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کیا گیا ( یعنی دشمنوں نے مشہور کر دیا کہ آپ کو سحر کر دیا گیا ہے) حتی کہ ان ایام میں آپ بعض اوقات یہ خیال فرماتے تھے کہ آپ نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ در حقیقت نہیں کیا ہو تا تھا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ بعض اوقات خیال کرتے تھے کہ میں اپنی فلاں بیوی کے گھر ہو آیا ہوں حالانکہ آپ اُس کے گھر نہیں گئے ہوتے تھے۔انہی ایام میں آپ ایک دن میرے مکان میں تھے اور آپ گھبراہٹ میں بار بار خدا کے حضور دعا فرماتے تھے۔اس دعا کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا (خواب میں) میرے پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک میرے سر کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف بیٹھ گیا۔پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟ ( یہ انداز گفتگو بھی حکایت عن الغیر کی تائید کرتا ہے) دوسرے شخص نے (فتنہ پردازوں کے خیال کے مطابق) جواب دیا یہ وہی ہے جسے سحر کیا گیا ہے۔اس پر پہلے شخص نے پوچھا اسے کس نے سحر کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا اسے لبید بن اعصم یہودی نے سحر کیا ہے جو بنی زریق کا حلیف ہے (اور ایک روایت میں ہے کہ وہ منافق تھا) اس پر پہلے شخص نے پھر سوال کیا کس چیز کے ذریعہ سحر کیا گیا ہے ؟ دوسرے نے کہا ایک کنگھی میں سر کے بالوں کی گرہیں باندھ کر اور اُسے ایک نر کھجور کی خشک شاخ میں لپیٹ کر رکھا گیا ہے۔پوچھنے والے نے سوال کیا کہ کنگھی وغیرہ کہاں رکھی ہے؟ دوسرے نے جواب دیا وہ ذروان کے کنویں میں رکھی ہے۔اس خواب کے بعد آپ اپنے بعض صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اس کا معائنہ فرمایا۔اس پر کھجوروں