صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 174
صحیح البخاری جلد ۱۴ 12 -24 ۷۶ - كتاب الطب میں خدا کی طرف سے کامیابی کا وعدہ ہونے کے باوجود دشمن کی ظاہری طاقت کو دیکھ کر فرمائی تھی کہ اللهُمَّ انْ تَهْلِكَ هَذِهِ الْعِصَابَةُ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ۔۔۔۔ان وجوہات سے آپ کے اعصاب اور آپ کی قوت حافظہ پر کافی اثر پڑا اور آپ کچھ عرصہ کے لیے مرض نسیان میں مبتلا ہو گئے۔جو ایک لازمہ بشری ہے جس سے خدا کے نبی تک مستی نہیں۔جب یہودیوں اور منافقوں نے یہ دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آجکل بیمار ہیں اور ضعف اعصاب اور ضعف دماغ کی وجہ سے آپ کو نسیان کا مرض لاحق ہے تو انہوں نے حسب عادت فتنہ کی غرض سے یہ مشہور کرناشروع کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے اور یہ کہ آپ کا یہ نسیان وغیرہ اسی سحر کا نتیجہ ہے۔اور انہوں نے اپنے قدیم طریق کے مطابق ظاہری علامت کے طور پر ایک کنویں کے اندر کسی کنگھی میں بالوں کی گر ہیں وغیرہ باندھ کر اسے دبا بھی دیا۔جب ان کے اس مزعومہ سحر کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس فتنہ کے سدباب کے لیے خدا کے حضور مزید دعا فرمائی اور اپنے آسمانی آقا سے استدعا کی کہ وہ اس فتنہ کے بانی مبانی کے نام اور اس کے مزعومہ سحر کے طریق سے آپ کو مطلع فرمائے تا آپ اس باطل سحر کا تار پود بکھیر سکیں۔چنانچہ خدا نے آپ کی مضطربانہ دعاؤں کو سنا اور۔۔۔رؤیا کے ذریعہ آپ پر اصل حقیقت کھول دی۔۔۔۔قرآن کے اصولی ارشاد کہ لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیثُ آئی (طه:۷۰) (یعنی نبیوں کے مقابل پر کوئی ساحر کسی صورت میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا خواہ وہ کسی رنگ میں اور کسی جہت سے حملہ آور ہو) اور پھر قرآن کے اس قطعی فیصلہ کی روشنی میں کہ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا (بنی اسرائیل: ۴۸) اور پھر خود اس حدیث کے الفاظ اور انداز بیان اور محاورہ عرب پر غور کرنے کے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "جب ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم محض ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔"