صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 173
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۶ - كتاب الطب -24 مدد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے بلند مرتبہ انسان پر جادو کر دیا ہو گا۔اور آپ اس شیطانی جادو سے متاثر ہو کر مدتوں پریشان اور مغموم اور بیمار رہے؟ هيهات هيئات لِمَا يَصِفُون جھوٹے لوگ حق کے مقابل پر ہر زمانہ میں ایسے باطل حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔مگر خدائے قدیر و عزیز ایسے تمام جھوٹوں کے پول کھولتا رہا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ أَنَا وَرُسُلى (المجادلة: ۲۳) یعنی خدا نے یہ بات لکھ رکھی ہے اور مقدر کر رکھی ہے کہ ہر رسول کے زمانہ میں میں اور میرے رسول ہی ہمیشہ غالب رہیں گے اور کوئی شیطانی حربہ ہمارے مقابلہ پر کامیاب نہیں ہو سکتا۔تو پھر سوال ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی حقیقت کیا ہے جو صحیح بخاری تک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان ہوا ہے۔سو اگر واقعہ کے سیاق و سباق اور یہودیوں اور منافقوں کے طور طریق کو مد نظر رکھ کر غور کیا جائے تو اس واقعہ کی حقیقت کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیئے کہ اس مزعومہ سحر کا واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ہے۔(دیکھو طبقات ابن سعد) جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک رؤیا کی بناء پر عمرہ کی غرض سے مکہ تشریف لے گئے تھے مگر رستہ میں قریش کے روکنے کی وجہ سے بظاہر ناکام لوٹنا پڑا۔یہ ظاہری ناکامی ایک ایسا بھاری صدمہ تھی کہ کافروں اور منافقوں نے تو مذاق اور طعن و تشنیع سے کام لینا ہی تھا۔بعض مخلص مسلمان حتی کہ ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بلند پایہ بزرگ بھی اس ظاہری ناکامی کی وجہ سے وقتی طور پر متزلزل ہو گئے تھے۔۔۔ان حالات کا کمزور طبیعت کے لوگوں کے ابتلاء کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر طبعاً کافی اثر تھا اور آپ کچھ عرصے تک بہت فکر مند رہے اور لازما اس فکر کا اثر آپ کی صحت پر بھی پڑا اور آپ اس گھبراہٹ میں خدا کے حضور کثرت سے دعا ئیں فرماتے تھے جیسا کہ حدیث کے الفاظ دَعَا وَدَعَا وغیرہ میں اشارہ ہے تا کہ صلح حدیبیہ کے واقعہ کی وجہ سے اسلام کی ترقی میں کوئی وقتی روک نہ پیدا ہونے پائے۔یہ اسی قسم کی دعا تھی جیسی کہ آپ نے بدر کے میدان