صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 172
صحیح البخاری جلد ۱۴ -24 ۷۶ - كتاب الطب مشکل ہو گیا ہے۔اور اگر ان سب روایتوں کو قبول کیا جائے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اور مقدس وجود ایسا ثابت ہو تا ہے کہ گویا خاکم بدہن ) آپ ایک بہت کمزور طبیعت کے انسان تھے جسے کم از کم دنیا کے معاملات میں آپ کے بد باطن دشمن اپنی سحر کاری سے جس قالب میں چاہتے تھے ڈھال سکتے تھے۔اور یہ کہ وہ آپ کو اپنی ناپاک توجہ کا نشانہ بنا کر آپ کے دل و دماغ پر اس طرح تصرف جمانا شروع کر دیتے تھے کہ آپؐ نعوذ باللہ اس سحر کاری کے مقابل پر اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔وغیرہ وغیرہ۔لیکن اگر ان روایات کے متعلق معقولی اور منقولی طریق پر غور کیا جائے اور روایات کی محققانہ چھان بین کی جائے، تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک مرض نسیان کا عارضہ تھا جو بعض وقتی تفکرات اور پیش آمدہ جسمانی ضعف کے نتیجہ میں آپ کو کچھ وقت کے لیے لاحق و گیا تھا جس سے بعض بدخواہ دشمنوں نے فائدہ اٹھا کر یہ مشہور کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو بہت جلد صحت دے کر دشمنوں کے منہ کالے کر دیے اور منافقوں کا جھوٹا پروپیگنڈاخاک میں مل گیا۔دنیا بھر میں شیطانی طاقتوں کا فاتح اعظم اور افضل الرسل "جس سے بڑھ کر طاغوتی قوتوں کا سر کچلنے والا نہ آج تک پیدا ہوا اور نہ آئندہ ہو گا اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ ایک ذلیل یہودی زادے کے شیطانی سحر کا نشانہ بن گیا تھا عقل انسانی کا بدترین استعمال ہے۔اور یہ صرف ہمارا دعویٰ ہی نہیں بلکہ خود سرور کائنات (فداہ نفسی) نے اس کی تردید فرمائی ہے۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ہر انسان کے ساتھ شیطان لگا ہوا ہے حضرت عائشہ نے حیران ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ ! کیا آپ کے ساتھ بھی کوئی شیطان لگا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔مگر خدا نے مجھے شیطان پر غلبہ عطا فرمایا ہے حتی کہ میرا شیطان بھی مسلمان ہو چکا ہے۔کیا اس واضح اور صریح ارشاد کے ہوتے ہوئے یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ کسی یہودی منافق نے جو قرآن کی رو سے ایک مغضوب علیہ قوم ہے اپنے شیطان کی (صحیح مسلم كتاب صفة القيامة والجنة والنار، باب تحريش الشيطان)